السلام علیکم میری پھوپھو کو ان کے شوہر نےاکھٹی تین طلاقیں دے دی تھیں، وہ فقہ حنفی کے تابعدار تھے. لیکن بعد میں غیر مقلدین (اہل حدیث) سے فتویٰ لےلیا کہ طلاق نہیں ہوئی، اور اب دونوں اکٹھے رہ رہے ہیں. اب میری پھوپھو اور پھوپھا اپنے بچوں کی شادی کر رہے ہیں اور وہ بچےہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں اور ہمیشہ عزت و محبت سے ملتے ہیں. میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس شادی میں شرکت کرنا جائز ہے؟ کیا اس شادی میں شرکت کر سکتے ہیں؟ جب کہ وہ بچے جن کی شادی ہورہی وہ ہم سے اصرار کر رہے ہوں ان کی شادی میں شرکت کے لیے، لیکن ان کے والدین (میرے پھوپھا اور پھوپھو) تین طلاق کے بعد بھی ساتھ رہ رہے ہیں اور وہی اپنے پیسوں سے اپنے بچوں کی شادی کروا رہے ہیں. اسلام اس معاملے میں کیا رہنمائی فرماتا ہے؟ جزاکم ﷲخیراً
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو ، اور واقعۃً سائل کی پھوپی تین طلاق کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ بغیر حلالہ شرعیہ کے ازدواجی حیثیت میں ساتھ رہ رہی ہو تو اس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہورہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکے بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لئے اس طرح کے فعلِ حرام کے ارتکاب سے مکمل اجتناب کریں اور سائل کو بھی چاہیئے کہ خود اور خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے اپنی پھوپی اور پھوپھا کو سمجھا کر اس عمل سےروکنےکی مکمل کوشش کریں، لیکن اس کے باوجود بھی اگر وہ اس گناہ کے کام سے باز نہ آئیں، تو ایسی صورت میں سائل بغرضِ اصلاح ان سے قطعِ تعلقی اختیار کرسکتا ہے، اور ان کے بیٹے کی شادی میں بھی شرکت نہ کرنے کی بھی شرعا ً گنجائش ہے، اور اس قطعِ تعلقی کی وجہ سےامید ہے کہ سائل کاعند اللہ مؤاخذہ بھی نہیں ہو گا۔
کما فی الصحیح للبخاری : باب ما یجوز من الھجران لمن عصی و قال کعب بن مالک حین تخلف عن النبیﷺ و نھی النبی ﷺ المسلمون عن کلامنا و ذکر خمسین لیلۃ الخ (ج 2، ص 898، ط: قدیمی کتب خانہ )۔
و فی فتح الباری : باب ما یجوز من الھجران الخ أراد بھذہ الترجمۃ بیان الھجران الجائز، لان عموم النھی مخصوص بمن لم یکن لھجرہ بسبب مشروع۔ فتبین ھنا السبب المسوّغ للھجر، و ھو لمن صدرت منہ معصیۃ فیسوغ لمن اطلع علیھا منہ ھجرہ علیھا لیکف عنھا الخ ( ج 18، ص 480، ط: رشیدیہ )۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0