میں ایک کمپنی میں بطور گرافک ڈیزائنر پانچ سال سے کام کر رہا ہوں۔ کمپنی کا نام گل احمد ہے، اور ہم مارکیٹنگ کے لیے گرافکس بناتے ہیں، جس میں ماڈلز کی شوٹنگ ہوتی ہے، جن میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں۔ میں نے اسی کمائی سے اللہ کے فضل سے حج بھی کیا ہے۔ اب مجھے اللہ نے ہدایت دی ہے، اور میں اپنی کمائی کے بارے میں پریشان ہوں کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ڈیجیٹل کام حرام نہیں ہوتا، اور کوئی کہتا ہے کہ یہ حرام ہے۔ برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں۔ اگر میری کمائی حرام ہے تو کیا میں نے جو اب تک کمائی کی ہے، وہ بھی حرام ہوگی؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل کی تقرری مذکور کمپنی میں بطور گرافک ڈیزائنر کے ہوئی ہو، اور اس کےکام کااکثرحصہ جائز اور مباح امور پر مشتمل ہو،لیکن تعلق گرافک ڈیزائننگ سے ہو، لیکن اصل ملازمت کے دوران کبھی کبھار اسے عورتوں کی تصاویر ڈیزائننگ بھی کرنی پڑتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی کمائی کو حرام تو نہیں کہا جا سکتا، البتہ غیر محرم عورتوں کی تصاویر ڈیزائننگ کرنا اگرچہ ڈیجیٹل حد تک کیوں نہ ہو شرعا جائز نہیں، اس لیے اسے گزشتہ عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور ائندہ کے لیے اس طرح کے غیر شرعی پروجیکٹ پر کام کرنے سے اجتناب لازم ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: (إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا)۔ (الزمر: 53)
و في تكملة من الملهم: أما التلفزيون والفدیو، فلاشك في حرمة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة (إلی قوله) ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وانما هي تظهر وتفنی اھ (إلی قوله) الصورة لا تستقر على الكيمرا، ولا على الشاشة وانما هي اجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها الاصلى ثم تفنی وتزول وأما إذا احتفظ باالصورة في شريط الفيديو فان الصور لا تنقش على الشريط وانما تحفظ فيها الاجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فاذا ظهرت هذه الاجزاء على الشاشة ظهرت مرة اخرى بذلك الترتيب الطبيعي ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وإنما هي تظهر و تفنى فلا يبدوان هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شئى بصفة مستقرة أو رائمة وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل الخ۔ (ج: 4،ص: 164،ط:دار العلوم کراتشی)۔
و فی فقه البیوع: اما اذا کانت الوظیفۃ لیس لھا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات الربویۃ مثل وظیفۃ الحارس او سائق السیارۃ ، او العامل علی الھاتف ، او المؤظف المسؤل عن صیانۃ البناء (الیٰ قولہ) فلا یحرم قبولھا ان لم یکن بنیۃ الاعانة علی العملیات المحرمۃ ، و ان کان الاجتناب عنھا اولیٰ ، و لایحکم فی راتبہ بالحرمۃ ، لما ذکرنا من التفصیل فی الاعانۃ و التسبب و فی کون مال البنک مختلطاً بالحلال و الحرام و یجوز التعامل مع مثل ھؤلاء المؤظفین ھبۃً او بیعاً او شراءً الخ۔ (التعامل نع البنوک الربویۃ،السابع: ان یواجر المرا نفسہ للبنک،ج: 2،ص: 1065،ط: معارف القرآن کراتشی)۔
وفي تكملة فتح الملهم: ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب، فذالك حرام لوجهين: الأول : إعانة على المعصية، والثاني: اخذ الأجرة من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنہ حرام للوجه الثاني فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيہ التوظف للنوع الثاني من الأعمال اھ (ج 1، صـــ 619، ط: دار العلوم)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0