کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اسٹاک ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ایک نجی کمپنی میں زیرِ ملازمت ہے، اس کمپنی کی مکمل آمدنی میں ۷۰ فیصد جائز آمدنی اور ۳۰ فیصد سودی آمدنی تھی، اب کچھ نئے مالیاتی نظام کی وجہ سے کمپنی آمدنی میں سودی ۸۰ فیصد اور غیر سودی ۲۰ فیصد ہو گئی ہے۔
اس کمپنی میں جو اشخاص کام کرتے ہیں، ان میں زیادہ تر اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں , شریعت کے مطابق ان اشخاص کے لئے کیا حکم ہے؟ ان کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد اس سے بہتر ملازمت عطا فرمائیں آمین! اور اس کمپنی میں جو چپڑاسی ، گارڈ، ڈرائیور، یا اس کمپنی میں کسی افسر کے ساتھ ڈیوٹی کرتا ہے , شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمپنی کی غالب اور اکثر آمدنی سودی ہونے کی وجہ سے اس کی کل آمدنی حرام اور ناجائز ہے، اس میں کسی بھی طرح کی ملازمت اختیار کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اس میں گارڈیا چوکیدار وغیرہ کی اگرچہ گنجائش ہے، مگر بہرحال سودی معاملات میں معاونت ضرور پائی جاتی ہے، اس لئے ایسی ملازمت سے بھی احتراز ہی چاہیئے اور یہی حکم اس آفیسر کے ساتھ ڈیوٹی انجام دینے کا ہے جس کا ذریعہ آمدنی خالص اس قسم کی سودی کمپنی وغیرہ سے ہو۔
جبکہ وہ ملازمین جو پہلے سے اس میں نوکری کر رہے ہوں اگر اُن کے اختیار میں ہو کہ وہ کمپنی ان سودی معاملات سے منع کریں تو اُسے رو ک دیں اور اگر ان کے اختیار میں نہ ہو تو پھر دوسری ایسی ملازمت جس کا سودی لکھت پڑھت وغیرہ سے کوئی تعلق نہ ہو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اور جب تک دوسری مناسب ملازمت نہ مل سکے اس وقت تک اُسے ناجائز سمجھتے ہوئے باقی بھی رکھ سکتے ہیں، مگر اُنہیں تلاش ایسے کرنا لازم ہے جیسے بے روزگار شخص تلاش کرتا ہے۔
ففی مشکاة المصابیح: عن جابر قال لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه وشاهدیه وقال ھم سواء اھ رواه مسلم (ص: ۲۴۴)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0