محترم مفتی صاحب! ایک مسئلہ ہے کہ جس کا جواب اسلامی رو سے تحریری طور پر چاہتا ہوں:
۱:پگڑی کے مکان یا دوکان یا کسی پراپرٹی پر رسید تبدیل کروائی کی رقم فیصد کے حساب سے لینا جائز ہے ؟
۲: کیا پگڑی پر کوئی پراپرٹی لینا دینا جائز ہے ؟شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
مکان و دوکان وغیرہ پگڑی پر لینے اور رسید تبدیل کروانے کا مروّجہ طریقہ رشوت اور سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز و حرام ہے ،اور اس سے احتراز لازم ہے۔
وفي الدر المختار: وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف اھ (4/ 518)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها اھ (4/ 518)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0