کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایزی پیسہ شاپ سے جو کمائی آتی ہے ،اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر ہے ،تو پھر ایزی پیسہ پر جو رقم بھیجے، وہ آدمی اس کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟ اس کا کیا حکم ہے؟آپ حضرات سے گزارش کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر مشکور و ممنوع فرمائیں۔عین نوازش ہوگی۔
ایزی پیسہ کا کاروبار ایک ایسا عقد ہے ،جو گاہک اور کمپنی کے درمیان منعقد ہوتا ہے، جس میں گاہک اپنی رقم کمپنی کے ایجنٹ کو دیدیتا ہے تاکہ یہ رقم مطلوبہ اور متعینہ دوسرے شہر میں جس کے لئے یہ رقم بھیجی جا رہی ہے ،وہ وصول کرلے، اور کمپنی اس سروس کے مقابلے میں گاہک سے ہزار یا کم و بیش کے حساب سے کچھ رقم فیس کے طور پر لے لیتی ہے، چنانچہ یہ اجارہ کا عقد کمپنی اور گاہک کے درمیان طے ہوتا ہے اور فیس کے طور پر جو رقم وصول کی جاتی ہے، یہ کمپنی کی مہیا کردہ خدمت کی اجرت ہوتی ہے۔ اس لئے اس طرح کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس طریقہ سے پیسے بھیجنا بھی درست ہے۔
کما في المبسوط للسرخسي: اعلم أن الإجارة عقد على المنفعة بعوض هو مال اھ (15/ 135)۔
وفي بدائع الصنائع: وهي في الحقيقة نوع واحد لأنها بيع المنفعة فكان المعقود عليه المنفعة في النوعين جميعا إلا أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى والأراضي بالزراعة اھ(4/ 175)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0