کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بینک والوں کو پراپرٹی کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا بینک والوں سے کرایہ کے مد میں جو رقم لےگا، وہ جائز ہوگی یا حرام ؟ قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
اگر مذکور بینک غیر اسلامی ہے، تو واضح ہو کہ کسی بھی غیر اسلامی بینک کو اپنی پراپرٹی کرایہ پر دینے کی اگرچہ اجازت ہے،مگر جب ان بینکوں کا سودی معاملات میں ملوث ہونا یقینی ہے، تو اس صورت میں کسی ایسے سودی معاملات انجام دینے والے ادارے کو اپنی پراپرٹی وغیرہ کرایہ پر دینے سے احتراز ہی چاہیئے, کیونکہ یہ اعانت علی المعاصی کے زمرے میں داخل ہو سکتا ہے۔
ففي الدر المختار: (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية اھ (6/ 392) -
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0