کیا فرماتے ہیں علما ءِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بینک کے ایسے شعبے میں کام کرنا یا ملازمت کرنا جس کا تعلق براہ ِراست سودی معاملات سے نہ ہو( مثلاً چوکیداری ، ڈرائیونگ اور انفارمیشن ٹیکنا لوجی ، وغیرہ ،)جائز ہے یا نہیں؟ مکمل تفصیل سے آگاہ کریں۔ جناب کی بڑی مہربانی ہوگی۔
بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو ، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہو، نہ سود پر گواہ بننے سے ہو اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہو جیسے چوکیداری کی ملازمت ، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق علماء ِکرام کی آراء مختلف ہیں۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں ،کیونکہ ایسے ملازمین کا سودی معاملات میں اگرچہ کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطور ِسود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بہ نسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقوم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دیجاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، تو اس کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہو نیوالی تنخواہ حرام نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لئے بہتر تو یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے حلال ذریعۂ معاش کو تلاش کرنے کے بعد بینک میں چوکیداری، ڈرائیونگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ کی ملازمت کو بھی چھوڑ دے اور اگر یہ ملازمت ابھی تک اختیار نہ کی ہو تو اُسے اختیار کرنے سے احتراز کرے۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0