السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے میں کہ زید اور عمرو دونوں نے مل کر عیدا لضحیٰ کی نماز کے بعد مدرسے کے نام سے چندہ کیا اور یہ الفاظ کہے ”ماشا ءاللہ جزاک اللہ مدرسے کے طلبہ کے ساتھ تعاون فرمائیں “ان میں سے زید جو ہے وہ طالبِ علم ہے اور عمرو طالبِ علم نہیں ہے ، لیکن زید اور عمرو دونوں صاحبِ نصاب نہیں ہے ،زید نے عمرو سے کہا آپ بطورِ معاون ہےمیرے ساتھ، زید کہتاہے کہ میں طالبِ علم ہوں اور صاحب ِنصاب نہیں ہوں میرے لئے یہ پیسے جائز ہیں ؟ کیا اس طر ح چندہ کرنا جائز ہے؟ اگر ان دونوں کیلئے اس طرح چندہ کرنا جائز نہیں ہے تو ان پیسو ں کا کیا حکم ہے ؟اور ان پیسوں کے واپسی کا کیا حکم ہے ؟
دوسرا سوال : زید کہتاہے اگر میں ان الفاظ کے ساتھ چندہ کروں ”ماشاء اللہ جزاک اللہ مدرسے کے مستحق طالبِ علم کے ساتھ تعاون فرمائیں “تو کیایہ پیسہ میرے لئے جائز ہوگا یا نہیں؟ جبکہ میں خود درجہ خامسہ کا طالبِ علم ہوں ۔
سوال نمبر:3 زید کہتاہے کہ میں نے ایک مدرسے کے نام سے قربانی کی کھالیں جمع کیں اور اس کو فروخت کرنے کے بعد پیسے استعمال کیے تو کیا یہ پیسے میرے لئے حلال ہیں یا نہیں ؟
ان تینو ں مسئلوں کا حکم بیان کریں اس کے لئے یہ رقم حلال ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ مدرسےکے لئے چندہ کرتے وقت عموما ًکسی ایک ادارے کے کاغذا ت اور رسید و غیرہ حاصل کر کے اسی کے نام پر چندہ جمع کرنے کا اہتمام کیا جاتاہے ۔ لہذ ا صورت مسئولہ میں اگر زید نے بھی کسی خاص مدرسے کے نام پر چندہ یا کھالیں وصول کی ہوں تواس کے لئے اس کی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائزنہیں بلکہ متعلقہ مدرسہ کے طلباء یا انتظامیہ تک پہنچانا لا زم و ضروری ہے ،تاہم اس نےاگر یہی رقم اپنی ذاتی اخراجات میں استعمال کرلی ہو تو اس کے ذمہ اتنی ہی رقم متعلقہ ادارے میں جمع کرانا لازم ہوگا۔
جبکہ کسی مدرسہ کانام استعمال کئے بغیر فقط ضرورت مند طلباء کے نام پر چندہ یا کھالیں وصول کرنے والے کو عرفِ عام میں دینی اداروں کا سفیر اور نمائندہ ہی سمجھا جاتا ہے اور انہیں دی جانے والی رقم بھی دینی ادارے میں پڑھنے والے طلباء پر ہی خرچ کرنے کے لیے دی جاتی ہے ۔ ا س لیےسائل کا اس طرح اپنی ذات کے لئے چندہ جمع کرنا دینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ دھوکہ دہی پر مشتمل ہے جو شرعاً جا ئز نہیں اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الصحیح لمسلم: حدثنا قتیبۃ بن سعید قال( الی قولہ) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: أن رسول اللہﷺ قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا، و من غشنا فلیس منا الخ ( کتاب الإیمان، باب قول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا، ح 284، ج 1، ص 133، ط: البشری)
و فی البحر الرائق: و لو جمع مالا لینفقہ فی بناء المسجد فأنفق بیضہ فی حاجتہ ثم رد بدلہ فی نفقۃ المسجد لا یسعہ أن یفعل ذالک فإذا فعلہ و کان یعرف صاحبہ ضمن لہ بدلہ أو أستاذنہ فی صرف عوضہ فی المسجد الخ ( کتاب الوقف، فصل فی أحکام المسجد، ج 5، ص 251، ط:ماجدیۃ )
و فی البزازیہ علی ھامش الھندیۃ: جمع مالا لنفقۃ المسجد من الناس و صرفہ فی حاجۃ نفسہ ثم أنفق مثلھا لا یسعہ ذالک فإن عرف صاحبہ بعینہ ردہ علیہ أو جدد الإذن منہ و إن لم یعرف صاحبہ بعینہ إستأمر الحاکم مرۃ لرفع الإثم أما الضمان فواجب علی کل حال و إن بعذر یرجی فی الإستحسان أن ینجو بإنفاق مثلہ الخ ( کتاب الصلاۃ، الفصل السادس والعشرون فی أحکام المسجد، ج 4، ص 82،ط: ماجدیۃ)
و فی المبسوط: لیس للمودع حق التصرف و الإ سترباح فی الودیعۃ و لھذا لا یسافر من طریق البحر الخ ( کتاب الودیعۃ، ج 11، ص 122، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔