قرآن مجید اللہ پاک کی نازل کردہ آخری آسمانی کتاب ہے جس کے اندر تمام چیزوں کا ذکر موجود ہے۔قرآن مجید میں بہت سے ایسے مضامین ہیں جن کا ذکر بار بار اور مختلف جگہوں پر آیا ہے، اس تکرار کی وجہ سمجھ نہیں آرہی، مثلا ًحضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ بہت جگہ ایک ہی اسلوب سے بیان کیا گیا ہے اسکے حوالہ سے وضاحت فرما دیجئے دل و دماغ میں کافی اضطراب ہے۔۔۔والسلام
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو حکمت و مصلحت، بلاغت و فصاحت اور کامل ترتیب پر مشتمل ہے۔ قرآن میں مضامین و واقعات کی تکرار کوئی خامی نہیں بلکہ بلاغت کا اعلیٰ درجہ،حکمتِ الٰہی کی دلیل،دلوں کی تسلی کا ذریعہ،اور نصیحت کی تاثیر کو بڑھانے کا انداز ہے۔
مفسرین کرام نے قرآن کریم میں تکرارمضامین کی بیشمار حکمتیں بیان کی ہیں جن میں سے چنددرج ذیل ہیں ۔
1. مختلف مقامات پر مختلف اسالیب اور نکات کی وضاحت:
اگرچہ بظاہر ایک ہی واقعہ متعدد بار آیا ہے، مگر ہر مقام پر اس کا سیاق و سباق، اسلوب بیان، اور مقصود تعلیم مختلف ہوتا ہے۔
جیسا کہ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
التكرار في القرآن ليس عبثا، بل لاختلاف المقاصد والأساليب."(التفسير الكبير، الرازي: 1/71)
مثال: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ:
سورہ طہ میں واقعہ کو تفصیل سے اور نرمی کے اسلوب میں بیان کیا گیا تاکہ تسلیِ قلبِ نبوی حاصل ہو۔
کمافی مفاتیح الغیب المعروف بہ تفسیرکبیر: قال القاضي: وجه تقديم قصة موسى هاهنا، أن السورة مكية، وكان أكثر من آمن به من بني إسرائيل، فكان ذكر هذه القصة أنجع فيهم، ثم فيه تسلية لرسول الله صلى الله عليه وسلم."(تفسير الرازي، مفاتيح الغيب، تفسير سورة طه، آية 9)
وفی الجامع الاحکام للقرطبی : وفي القصص تسلية للنبي صلى الله عليه وسلم، وبيان أن من تقدم من الرسل قد أوذي كما أوذي، وصبر كما صبر."(تفسير القرطبي، سورة طه، آية 9)
وفی تفسیر الألوسي (روح المعاني):وفي الآيات تسلية للنبي صلى الله عليه وسلم، وتهوين لما يلقاه من قومه، وتأنيس له عليه الصلاة والسلام."(روح المعاني، الألوسي، تفسير طه: 9)
سورہ شعراء میں اختصار سے بیان کر کے انذار اور دعوت پر زور دیا گیا۔
کمافی تفسیر الألوسي (روح المعاني) : والمقصود من هذا العرض (في سورة الشعراء) ما فيه من الإنذار والاعتبار، ولهذا اقتصر على ما فيه من دعوة موسى لفرعون ومكابرته، دون تفصيل القصة كما في طه."(روح المعاني، الألوسي، تفسير سورة الشعراء، الآية: 10)
وفی الجامع الاحکام للقرطبی : وفي هذه السورة (الشعراء) أوجز ذكر القصة، لأن المقصود هو الإنذار والتبليغ، لا تسلية الرسول كما في طه."
(تفسير الرازي، مفاتيح الغيب، تفسير سورة الشعراء، الآية: 10)
وفی تفسیرالکشاف : اقتصر في قصة موسى على ما فيه من المحاجة والدعوة، لأن المقام مقام إنذار وتخويف."(الکشاف، الزمخشری، تفسير سورة الشعراء، الآية: 10)
سورہ قصص میں ابتدائی حالات کو بیان کیا تاکہ اللہ کی نصرت اور تدبیر کا اظہار ہو۔
کمافی مفاتیح الغیب المعروف بہ تفسیرکبیر: ووجه ذكر القصة في هذه السورة، أن الله أراد أن يبين كيف دبَّر أمر نبيه موسى عليه السلام من أول ولادته إلى أن بعثه إلى فرعون، ليكون فيه تسلية لرسول الله صلى الله عليه وسلم، وتأكيد على أن نصر الله يأتي بعد الابتلاء."(تفسير الرازي، تفسير سورة القصص، الآية: 3)
وفی تفسیر الألوسي (روح المعاني):ذكر ما يدل على كمال العناية الإلهية بموسى منذ ولادته، ليظهر أن نصر الله لعباده يكون بأسباب خفية منذ البداية."(روح المعاني، تفسير سورة القصص، الآية: 7)
2. تعلیم و تذکیر اور نفسیاتی اثر:
تکرار انسانی نفسیات کے لیے مؤثر ہوتا ہے، تاکہ بات ذہن نشین ہو جائے۔ جیسے تعلیم میں استاد بار بار دہراتا ہے تاکہ طلبہ کے دل و دماغ میں نقش ہو جائے۔
قرآن کریم میں فرمایا گیا:
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا"(سورہ الإسراء: 41)
’’اور ہم نے اس قرآن میں مختلف انداز سے (باتیں) بیان کیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘
3. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی:
کفار کی ایذاؤں، تکذیب اور طعن کا سامنا کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تقویت دینے کے لیے، پچھلے انبیاء کی آزمائشوں کا بار بار ذکر کیا گیا۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے:
وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ"(سورہ ھود: 120)
’’اور ہم رسولوں کی خبریں اس لیے سناتے ہیں تاکہ آپ کے دل کو مضبوطی دیں۔‘‘
4. مختلف اقوام اور افراد کے لیے مختلف پہلو:
چونکہ قرآن قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہے، اس لیے ایک ہی واقعہ مختلف انداز میں بیان ہوا تاکہ ہر ذوق، عقل سلیم، اور ماحول کو فائدہ پہنچے۔لہٰذاسائل کوچاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کے اضطراب یا وسوسہ کو دل میں جگہ نہ دیں، بلکہ یہ یقین رکھیں کہ قرآن کا ہر حرف بامقصد، پر حکمت اورپر نور ہے۔