کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی ہے جس نے ایک مشین ایجاد کی ہے اس کی قیمت دس ہزار روپے ہے، جو شخص وہ مشین خرید لیتا ہے وہ اس کمپنی کا ممبر بن جاتا ہے پھر وہ مزید دو آدمی اس مشین کی خریداری کے لئے تیار کرتا ہے ان دو آدمیوں کے تیار کرنے پر پہلے ممبر کو فی کس ایک ہزار چالیس روپے کے حساب کمیشن ملتا ہے، پھر وہ دو افراد مزید دو اور افراد تیار کریں گے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اس کے بعد پہلے والے ممبر کو فی کس دو سو چالیس روپےکے حساب سے کمیشن ملتا ہے سولہ افراد کی تیاری کے بعد پہلے والے ممبر کو ایک جوڑے کی جس کی قیمت پچاس ہزار روپے ہے اور مزید بیس ہزار روپے کی رقم کا انعام ملتا ہے اور وہ شخص منیجر بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کو آٹھ سو روپے فی کس کے حساب سے کمیشن ملتا ہے اور پھر ایک مخصوص تعداد خریداروں کی تیار کرنے پر اس شخص کو کار انعام میں مل جاتی ہے۔ کیا از روئے شرع اس کمپنی کا ممبر بننا اور اس کے بعد مسلسل یہ کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں ؟
XL شینل کمپنی کے ذمہ داران کی دعوت پر اس کے کاروبار کا مشاہدہ اور براهِ راست اصل ذمہ داران سے معلومات حاصل کرنے کا اتفاق ہوا، جس کے نتیجہ میں مذکور کمپنی کے کاروبار سے متعلق درجِ ذیل شرعی احکام تحریر کئے جا رہے ہیں:
(1) مذکور کمپنی میں بیچے جانے والے مساجر (یعنی مشین) کی خریداری اگر کمپنی کی ممبری وغیرہ دیگر شرائط سے مشروط نہ ہو اور خریداری سے مقصود بھی محض مارکیٹنگ سسٹم میں شمولیت نہ ہو تو اس کا خریدنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
(۲) مگر مذکور پہلی صورت کمپنی کے کاروبار میں عملاً مفقود ہی نہیں ، بلکہ کمپنی کے بنیادی مقصد کے بھی خلاف ہے، اس لئے کہ کمپنی کا بنیادی مقصد کسٹمر کو اس مخصوص سلسلہ کے ساتھ جوڑنا ہے "والامور بقاصد ھا" ، چنانچہ درج ذیل خرابیوں کی بناء پر مذکور کا روبار میں شریک ہونا جائز نہیں:
اس کاروبار میں مشین کی خریداری ممبر بننے کیساتھ مشروط ہے۔ اور نبی کریم ﷺنے بیع کو اس قسم کی شرائط سے مشروط کرنے کو منع فرمایا ہے، نیز فقہاءِ کرام کا قاعدہ ہے کہ جو شرط مقتضاءِ عقد کیخلاف ہو وہ بیع کو فاسد کر دیتا ہے -
اس کا روبار میں ’’صفقہ فی صفقہ‘‘ کی خرابی پائی جاتی ہے ،جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی عقد میں مذکور مشین کی بیع اور اسی عقد میں خریدار کو کمیشن ایجنٹ کے نام سے اجیر بنایا جاتا ہے، اور یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں۔
اگر کسی کا مقصد مشین وغیرہ مساجر خرید کر اس سے استفادہ حاصل کرنے کی بجائے محض کمپنی کے ’’مارکیٹنگ سسٹم‘‘میں شامل ہونا ہو تو اس صورت میں مذکور مشین کی قیمت اگر اس کی بازاری قیمت سے زائد ہو تو یہ بلا شبہ ’’جوا‘‘ ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے ۔
اگر مذکور مشین کی قیمت عام مارکیٹ کے برابر ہو تب بھی مشین کے منافع مقصود نہ ہونے کی وجہ سے جوا اور قمار کے مشابہ ضرور ہے، لہذا تمام مسلمانوں کو اس قسم کے ناجائز کاروبار میں شرکت کر کے اس کا حصہ بننے اور ایسے کاروبار کو عام کرنے میں مدد دینے سے احتراز لازم ہے ۔
واضح ہو کہ یہ وہ جواب ہے جو کمپنی کی طرف سے سوال کے جواب میں جاری کیا گیا تھا۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0