مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمارا کراچی میں ایک فلیٹ ہے اور ہم خود جدہ میں رہتے ہیں، پہلے ہم نے گھر کرایہ پر نہیں دیا تھا، تقریباً آٹھ سے نو سال تک فلیٹ بند رہا ، لیکن کوئی نہ کوئی وہاں جاتا رہتا تھا وہاں رہنے والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس فلیٹ میں سایہ ہے، پھر ہمارے بھائی نے یہ فلیٹ کرایہ پر دے دیا اس نے بھی کہا کہ اس گھر میں سایہ ہے اور اس نے مکان خالی کر دیا اور کرایہ پر دے دیا اب اس میں کرایہ دار رہتے ہیں، وہ میرے بھائی کے دوست کی بہن ہے۔ اس کو وہاں رہتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں، لیکن وہاں کوئی سایہ نظر نہیں آیا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جا کر اپنے مکان میں رہیں، لیکن کرایہ دار خالی نہیں کرنا چاہتے ہیں آپ قرآن کی روشنی میں دیکھ کر بتائیں کہ کیا ہم اس گھر میں رہ سکتے ہیں؟ مکان میرے نام ہے، میرا مکان افغان پلازہ میں ہے اس کا نمبر جی ۱۴ ہے، میرے دو بچے ہیں۔
کرایہ دار سے مکان خالی کروا کر اس میں خود رہائش اختیار کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے،اب اگر کرایہ دار مکان خالی نہ کرتا ہو اور بلا وجہ ٹال مٹول سے کا م لیتا ہو تو باہمی مشورہ سے ایک وقت تک اسے مزید کرایہ پر چھوڑ سکتے ہیں، جبکہ اس کے بعد قانونی چارہ جوئی کے ذریعے بھی اپنا مکان خالی کرانے کی آپ حقدار ہیں ۔
کما فی تنزیل العزیز: یاایھا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔(النساء:29)۔
وفی سنن الدار قطنی: عن انس بن مالك ان رسول اللہ ﷺ قال: لایحل مال امری مسلم الا بطیب نفس منہ(3/424)۔
وفی سنن البیھقی: عن سعید بن زید مرفوعاً: من اخذ شبرا من الارض یعنی ظلما طوقہ الیٰ سبع ارضین (6/163)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0