کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب بینک میں ملازم تھے، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پیسے انہیں ملے ہیں، اس پیسے سے اپنا کاروبار شروع کریں تو جائز ہے یا نہیں؟
(۲) اگر میں والد صاحب کے ساتھ مل کر کام کروں تو میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر والد صاحب اس رقم سے مکان یا دوکان خرید کر کرایہ پر دے دیں تو اس کے آمدنی پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص چونکہ بینک کے اس شعبہ میں ملازم اور ایک آفیسر تھاجس شعبہ کا کام ہی سودی معاملات کا لین دین اور حساب وکتاب کرنا ہوتا ہے، اس ملازمت پر ملنے والی تنخواہ اور ریٹائرمنٹ پر دی جانے والی رقم بھی خالص سود کی رقم اور ناجائز ہے۔ جس کا اپنے استعمال میں یا کسی بیٹے کو کاروبار وغیرہ کے لئے دینا بہر صورت ناجائز ہے۔ اس سے احتراز لازم ہے اور اس کل رقم کا غربا وفقراء میں بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔ لہٰذا شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اس رقم کو مذکور امور کی انجام دہی میں خرچ کرنے سے مکمل احتراز کرے ورنہ سخت گناہ گار ہوگا۔
وفی الشامیۃ: والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم ،والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولا شیئامنہ بعینہ حل لہ حکما والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ (5/99)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0