مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مثلاً بکر دس ہزار روپے بطورِ قرض کے عمرو سے لیتا ہے اور اس قرض کے بدلے میں عمرو کو اپنی زمین دیتا ہے، اب عمرو اس زمین سے فائدہ حاصل کرتا ہے، لیکن اس زمین کا کچھ کرایہ بھی دیتا ہے، جبکہ قرضے میں کچھ کاٹتا نہیں ہے، آیا عمرو کو اس زمین سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دوسری صورت: عمرو اس زمین سے فائدہ حاصل کرتا ہے، لیکن کچھ کرایہ نہیں دیتا ،تفصیل کے سا تھ مدلل جواب بیان کریں۔
نوٹ: مشترکہ طور پر جانور پالنے کا طریقہ بیان کریں ۔
گروی رکھی ہوئی اشیاء چاہے زمین مکان وغیرہ ہو یا کوئی اور چیز ان سے اگر چہ بصورتِ کرا یہ ہی ہو مشروط یا معروف طریقہ سے نفع اٹھانا جائز نہیں، بلکہ سود کے زمرے میں آتا ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ لہذا بکر پر لازم ہے کہ مذکور زمین کرایہ پر دینے کے بجائے اپنے پاس ہی محبوس رکھے ۔ اور اپنے حق کی وصولی کا انتظار کرے۔
۲) تنقیح : سائل کو جانوروں کے پالنے سے متعلق جس صورت کا حکم مطلوب ہو اس کی وضاحت لکھ کر سوال دوبارہ لکھ کر دار الافتاء ارسال کر دیں انشاء اللہ اس کا حکمِ شرعی بھی بیان کر دیا جائے گا ۔
کمافي الدر المختار: لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم اھ (5/ 166)۔
وفيه ايضا: (لاانتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة اھ (6/ 482)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ولا إجارة) فلو أجره المرتهن بلا إذن فالأجرة له كما سيذكره آخر الرهن مع بقية فروعه اھ (6/ 482)۔