میں کراچی میں ایک ایسی کمپنی میں جو کمپیوٹر کے پروگرام و غیرہ بناتی ہے بحیثیت پروگرام بنانے والے کے طور پر کام کر رہا ہوں ۔ یہاں جن چیزوں پر ہم کام کرتے ہیں وه جائیداد کی خرید وفروخت ہے، یہ وہ جائیداد ہیں جن کا امریکہ میں مانگ ہے، اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں بہت سے سودے اور وعدے رہن رکھنے سے متعلق ہوتے ہیں، ان میں قرضہ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اس کاروبار کا حصہ ہے اور بھی ان کے ایسے کاروبار ہیں جن کے ذریعے یہ مال بناتے ہیں، جو کسی طرح بھی سود پر نہیں ہوتا۔ کیا میرا یہاں کام کرنا حلال ہے یا نہیں؟
سوال میں مذکور معاملہ کے دوران رہن رکھی ہوئی چیز سے اگر فائدہ حاصل کیا جاتا ہو ، (جیسے مکان و دوکان وغیرہ ہو کرایہ پر دیکر) تو اس صورت میں آپ پر رہن رکھنے کا مذکور معاملہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے اور اس طرح کے معاملات میں معاون بننا بھی شرعاً جائز نہیں، لہٰذا متعلقہ کمپنی میں اگر سائل کی ذمہ داری مذکور معاملات نبھانا ہی ہو تو اس صورت میں لازم ہے کہ کسی دوسری جگہ جائز اور حلال ملازمت کی تلاش کرے اور جب تک کوئی معقول بندوبست نہ ہو سکے اس وقت تک متعلقہ ملازمت کو برقرار بھی رکھ سکتے ہیں، اور اگر اس کے علاوہ کی ذمہ داریاں ہوں اور کبھی کبھار ضمناً یہ معاملہ بھی کرنا پڑتا ہو تو اس صورت میں مذکور ملازمت کے برقرار رکھنے کی بھی گنجائش ہے۔