کیا فرماتے ہیں ععلماءِکرام و مفتیانِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(1) ایک شخص نے ایک مکان کرایہ پر لیا مالکِ مکان نے یہ شرط عائد کی کہ اگر تم پچاس ہزار ایڈوانس دو گے تو کرایہ ڈھائی ہزار ہوگا اور اگر ایک لاکھ ایڈوانس دو گے تو کرایہ دو ہزار ہو گا مالک مکان نے دو سال کے لئے یہ ایگریمنٹ کیا تھا اور ایک لاکھ ایڈوانس پر بات طے ہوگئی تقریباً چھ ماہ بعد مالک مکان کو کچھ رقم کی ضرورت پڑی تو اس نے کرایہ دار سے کہا کہ اگر آپ مجھے پچاس ہزار ایڈوانس دینگے تو میں کرا یہ ایک ہزار کم کر دونگا اور اگر آپ ایک لاکھ ایڈوانس دینگے تو میں تین سال تک آپ سے کرایہ نہیں لوں گا۔ کیا شرعاً اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے؟ واضح ہو کہ مکان کی مالیت پانچ لاکھ روپے ہے ۔
(۲) کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے کہ کرایہ دار مزید ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کر کے آدھے مکان کا مالک بن جائے اور بقیہ آدھے مکان پر مالک کی اجازت و رضامندی سے بغیر کرائے کے تین سال تک رہائش اختیار کرے ۔
۱۔ صورتِ مسئولہ میں مذکور تمام شکلیں ’’ كل قرض جر نفعاً ‘‘کے تحت آنیکی وجہ سے شرعاً ناجائز اور سود کے زمرے میں آتی ہیں اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
۲۔ باہمی رضامندی سے مکان کی آدھی قیمت ادا کر کے آدھے مکان کا مالک بن جانے کے بعد مابقیہ آدھے مکان میں مالک کی اجازت و رضامندی سے رہائش اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ یہ عقدِ بیع میں مشروط نہ ہو۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي البيهقي: انه قال كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا اھ (۵/ ۵۷۳)۔
وفي الدر : كل قرض جر نفعاً حرام اھ (۶/ ۱۶۶)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0