السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
(۱) مسئلہ یہ ہے کہ میری ایک دکان ہے جو میں کسی کو کرایہ پر دے رہا ہوں۔ صورت یہ ہے کہ چار ہزار (4000 )ماہانہ کرایہ اور ڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس پر میں کسی کو دکان دے رہا ہوں تو کسی نے مجھے کہا یہ سود ہے یا تو آپ صرف کرایہ لیں یا ایڈوانس اور اسی میں سے کرایہ کاٹیں آیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟
(۲) مکان یا دکان کو پگڑی پر دینا آیا یہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو اس کا متبادل طریقہ کیا ہے ؟
مکانوں یا دوکانوں وغیرہ کی پگڑی کا مروّجہ معاملہ اور اس کا طریقہ کار رشوت اور سود کے حکم میں ہونے کی بناء پر شرعاً نا جائز ہے اس لئے اس طرز کے معاملہ سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ کرایہ پر لینے دینے کی صورت میں ایک معقول رقم کا بطور ایڈوانس لینا اور باہم معاملہ کے اختتام پر اس ایڈوانس کا واپس لوٹانا یا اسے کرایہ میں منہا کرنا کوئی سودی معاملہ نہیں، بلکہ جائز اور درست اور یہ پگڑی کا متبادل بھی ہے۔ لہذا سائل کا اپنی دوکان کرایہ پر دینے اور مذکور مبلغ بطور ایڈوانس لینے کا معاملہ جائز ہے ۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0