کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ!
(۱) میرے والد صاحب بینک میں ملازم تھے، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو رقم انہیں ملی ہے، اگر والد صاحب کسی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیں تو کیا شراکت دار کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ مال بینک سے حاصل شدہ ہے؟
(۲) اور اگر میں خود کاروبار کرنا چاہوں تو کیا میرے لئے اس مال سے کاروبار کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
بینک کی ملازمت اور اس پر ملنے والی تنخواہ ہر دو امور شرعاً ناجائز ہیں، ان سے ہر ممکن احتراز لازم ہے۔ لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اس حرام آمدن کو اپنے استعمال میں لانے یا کسی دوسرے کے ساتھ شراکت کے طور پر کاروبار میں لگانے سے مکمل احتراز کرے۔ اولاً تو اس پوری رقم کو اگر ہمت ہو تو بغیر نیتِ ثواب کے فقراء ومساکین میں خرچ کر دیں۔ ورنہ کسی غیر مسلم سے قرض لے کر اس کے قرض میں یہ رقم دے دیں۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0