محترم!میں اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤس میں ایچ آر مینیجر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ گیسٹ ہاؤس میں مختلف مہمان آتے ہیں جیسے خاندان، جوڑے اور غیر ملکی مہمان بھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری تنخواہ حلال ہے یا حرام کیونکہ کچھ مہمان ایسے ہیں جو قانونی طور پر شادی شدہ نہیں ہیں لیکن ہمارے اپارٹمنٹ میں قیام کرتے ہیں۔ براہ کرم رہنمائی کریں۔شکریہ۔
صورت مسئولہ میں اگر گیسٹ ہاؤس میں سائل کا کام انتظامی نوعیت کا ہو جیسے عملے کی نگرانی، بُکنگ، مالی امور یا دیگرعمومی خدمات، اور گیسٹ ہاؤس بذاتِ خود کسی ناجائز یا فحاشی کے کاروبار کے لیے مخصوص نہ ہو، بلکہ عام مہمانوں (خواہ وہ خاندان ہوں یا غیر ملکی ) کے قیام کے لیے چلایا جاتا ہے، توسائل کی یہ ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ شرعاً حلال ہے۔ البتہ اگر کبھی کبھار ایسے مہمان آتے ہوں جو غیر شرعی تعلق کے ساتھ قیام کرتے ہوں، اور سائل نہ تو ان کے اس تعلق میں شریک ہو، نہ ان کی نیت جانتا ہو، اور نہ ہی ان کو اس غرض سے جگہ فراہم کرتا ہو، تو ان کا گناہ انہی پر ہوگا، سائل پر نہیں۔ تاہم اگر گیسٹ ہاؤس کی پالیسی یا طریقۂ کار ہی فحاشی یا ناجائز تعلقات کو فروغ دینے والا ہو، اور سائل کو اس کی اطلاع ہو کر بھی وہ اس نظام کا حصہ بنا رہے، تو ایسی ملازمت ناجائز قرار پائے گی۔ پس جب تک سائل کا کام جائز خدمات تک محدود ہے اور وہ براہِ راست کسی حرام کام میں تعاون نہیں کرتا، اس کی تنخواہ حلال ہے۔
كما في تفسير الطبري: وقوله: ولا تعاونوا على الإثم والعدوان (المائدة: 2) يعني: ولا يعن بعضكم بعضا على الإثم، يعني: على ترك ما أمركم الله بفعله اه. (8/52)
وفي فقه البيوع: حكم الفنادق والمطاعم التي تباع فيها الخمور...
أما قبول الوظائف في مثل هذه الفنادق والمطاعم، فإن كانت الوظيفة متمحضة لخدمة مباحة، فهي جائزة، ويجري على راتبها حكم المال الحلال.
وإن كانت متمحضة للحرام مثل بيع الخمر، فهي حرام، وراتبها حرام.
وأما الوظائف المركبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة فلا يجوز قبولها لاشتملها على عمل محرم.
ولكن إن قبل أحد مثل هذه الوظيفة، فما حكم الراتب الذي أخذه عليها؟ لم أجد فيها نقلا في كلام الفقهاء، إلا ما ذكره ابن قدامة رحمه الله تعالى:
قال (أي للأجير: استأجرتك) لتحمل لي هذه الصبرة والتي في البيت بعشرة...
فإن كانا يعلمان التي في البيت لكنها مغصوبة، أو امتنع تصحيح العقد فيها لمانع اختص بها، بطل العقد فيها، وفي صحة الأخرى وجوه بناء على تفريق الصفقة، إلا أنهما إن كانت قفزانهما معلومة، أو قدر أحدهما معلوم من الأخرى، فالأولى صحته، لأن قسط الأجر فيها معلوم، وإن لم يكن كذلك، فالأولى بطلانه لجهالة العوض فيها. (1056)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0