کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے کہ ایک آدمی جس نے دوسری شادی کرنے کا ارادہ کیا ۔ اور نئی بیوی کے کہنے پر پہلی بیوی کو طلاق ثلاثہ دے کر طلاق نامہ دو گواہوں کی موجودگی میں لکھ کر پہلی سے مخفی رکھا، تقریباً 6 سال کے بعد یہ بات ظاہر ہوئی ۔ اب پہلی بیوی کے بھائی نے اس کو جدا کر دیا ۔دریافت یہ کرنا ہے کہ:
(۱) 6 سال طلاق شدہ عورت کو اپنے پاس بدستور بیوی کے رکھا، اور بیوی والے تعلقات قائم رہے ۔ اور شوہر کا اب کہناہے کہ میں نے مذاق کیا تھا، تو حکمِ شرعی کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا شرعاً کیا حکم ہے ؟
(۲) بیوی حرام ہو چکی تھی ،حرام کو حلال سمجھ کر اس پر کاربند رہنے والے کے بارے میں دینِ اسلام کا حکم کیا ہے؟
(۳) ایسے لوگوں سے معاشرتی بائیکاٹ بطور زجر و توبیخ تاکہ عام لوگوں کے لئے عبرت و نصیحت کا یہ سبق ہو، کیسا ہے؟
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو تو مذکور شخص مطلقہ بیوی کو چھ سال تک ازدواجی حیثیت سے اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے انتہائی سخت گناہ گار اور فعلِ حرام کا مرتکب ہوا ہے، بلکہ حرام و حلال اور احکامِ شریعت کے معاملے میں اس قدر غفلت اور بے پروائی برتنے والے شخص کے بارے میں اندیشۂ کفر ہے، اس لئے شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنی اس قبیح اور نا جائز حرکت پر اللہ تعالی کے سامنے خوب آہ وزاری اور ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے، ورنہ جب تک مذکور شخص اپنے اس فعلِ قبیح سے توبہ تائب نہ ہو جائے اس وقت تک ایسے شخص سے معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کے فعل حرام کی جرأت نہ ہو ۔
کمافي مرقاة المفاتيح: قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. (إلی قوله) فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم اھ(8/ 3146)۔
وفي تکملة فتح الملھم: اما إذا کان (الھجران) علی وجه التغلیظ علی المعصیة والفسق أو علی وجه التأدیب کما وقع مع کعب بن مالك وصاحبیه فانه لیس من الھجران الممنوع اھ (۵/ ۲۵۶)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0