کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزارش یہ ہے کہ 2020/11/4 کو تین تلوار پر قائم دل پسند مٹھائی والے کی دکان پر سورۃ الکہف کی آیت انتالیس کو غلط تحریر کیا گیا، اور ترجمہ بھی غلط تھا، جسے کافی عرصے سے آویزاں کیا ہواتھا، (ماشاء اللہ لا حول ولا قوة الا باللہ) ترجمہ: جو اللہ چاہے نہیں ہے ( ہر قسم کے گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ تعالی کی توفیق کے سوا) جس میں جان بوجھ کر آیت میں بھی تحریف کی گئی ہے، اور اللہ کی نفی کی گئی ہے ترجمے میں، جبکہ وہاں منیجر جانتا ہے کہ یہ غلط ہے ، اور مالک نے کہا کہ وہ خود اس معاملے پر عبور رکھتا ہے، یہ بالکل صحیح لکھا ہے ، کچھ لوگوں نے وہاں مجھے ہر اساں کرنے کی بھی کوشش کی کہ اسے مار دو، قرآن کی آیت کو غلط کہہ رہی ہے ، دھکے دیے گئے، جبکہ میں نے 15 پر کال کر کے پولیس بلائی چونکہ معاملہ پولیس تک پہنچ گیا، اس لئے فتوی ضروری ہو گیا اور مجھ سے پہلے ہی اس نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنے لئے معافی لکھوالی، جبکہ مجد د کا نام بتانے پر راضی نہیں ہے، اور الٹا میرے خلاف جھوٹی درخواست جمع کرائی، ڈی آئی جی ساؤتھ کو کہ مجھ سے جانی مالی خطر ہ ہے ، جبکہ اس کی جانب سے مجھے پیسوں کی آفر ہوئی، لین دین کر کے معاملہ ختم کروں، جس پر میں راضی نہ ہوئی، کہ یہ شرعی معاملہ ہے، لین دین کیسی؟ مفتیان کو گمراہ کیا، پولیس کو گمراہ کیا، قرآنی آیت غلط لکھوائی، ترجمہ غلط لکھوایا، مجھے ہراساں کیا، نقاط کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ، اس پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوری فتوی دیں۔
واضح ہو کہ ’’ماشاء الله لا حول ولا قوة الا باللہ‘‘ اگرچہ باعتبار مفہوم درست ہے، تاہم سورۃ الکہف کی آیت نمبر 39 میں "ماشاء اللہ لا قوة الا باللہ“ ہے، آیت میں "لا حول " کا اضافہ نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر منسلکہ تصویر مطابق اصل ہو تو اس میں چونکہ سورۃ الکہف کی مذکور آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اس لئے اس میں "لا حول " کا اضافہ کرنا درست نہیں ہے، اور دانستہ طور پر ایسی تبدیلی کرنا غلطی کی نشاندہی کے باوجود اس پر اصرار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس سوال میں مذکور موضع ’’ دلپسند دکان‘‘ کے مالک پر لازم ہے کہ مذکور غلطی کی درستگی کرے، اور آئندہ کے لئے اس سلسلہ میں احتیاط سے کام لے، بصورت دیگر ضابطہ کے تحت سائلہ یا کوئی بھی شخص اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مجاز ہو گا۔
كما في الدر المختار: (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) اھ (4/ 229)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن) ظاهره أنه لا يفتى به من حيث استحقاقه للقتل ولا من حيث الحكم ببينونة زوجته (الى قوله) بدليل ما صرحوا به من أنهم إذا أراد أن يتكلم بكلمة مباحة فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بلا قصد لا يصدقه القاضي وإن كان لا يكفر فيما بينه وبين ربه تعالى، فتأمل ذلك وحرره نقلا فإني لم أر التصريح به، نعم سيذكر الشارح أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط. مطلب في حكم من شتم دين مسلم ثم إن مقتضى كلامهم أيضا أنه لا يكفر بشتم دين مسلم: أي لا يحكم بكفره لإمكان التأويل. ثم رأيته في جامع الفصولين حيث قال بعد كلام أقول: وعلى هذا ينبغي أن يكفر من شتم دين مسلم، ولكن يمكن التأويل بأن مراده أخلاقه الرديئة ومعاملته القبيحة لا حقيقة دين الإسلام، فينبغي أن لا يكفر حينئذ، والله تعالى أعلم اهـ وأقره في [نور العين] ومفهومه أنه لا يحكم بفسخ النكاح، وفيه البحث الذي قلناه. (4/ 229)۔