کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صحیح مسلم شرح نووی ؒصفحہ (نمبر ۲۱۶/۲۱۵) کتاب المساقات والمزارعت میں کھجور کے اس نقدا نقد لین دین کو رسول کریم ﷺنے عین سو د قرار دیا ہے، اس کتاب کے (صفحہ ۲۱۹) میں تین احادیث میں لکھا گیا ہے کہ (ا):سودا اُدھار میں ہے۔ ۲: نقدا نقد میں ربا نہیں ہے۔ ۳: سو د ادھار میں ہے۔ یہ تو کھلا تضاد ہے،مذکورہ احادیث کے بیچ, اسی کتاب کے (صفحہ ۲۰۹) میں حضرت معاویہ فرمارہے ہیں نقدا نقد لین دین کے سود کے بارے میں کہ ’’کیا حال ہے، لوگوں کا جناب رسول خدا سے وہ حدیثیں روایت کرتے ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا اور ہم آپ کے پاس حاضر رہے ،اور آپ کی صحبت میں رہے ،“ حضرت معاویہ (صفحہ ۲۰۹ )کے تینوں حدیثوں کی روشنی میں صحیح ثابت ہوتے ہیں کہ سو د ادھار میں ہے، نقدا نقد میں نہیں، حضرت معاویہ قرآن شریف کی روشنی میں بھی صحیح ثابت ہوتے ہیں کہ جدھر ربا کو حرام کرنے کا ذکر آیا ہے ،وہیں اُدھار کا واپس کرنے کا بھی ذکر آیا ہے،اگر ہم حضرت معاویہ کے ہم خیال ہو جائیں، تو تینوں احادیث کے منکر نہیں ہوں گے ،اور قرآن کریم کی روشنی میں بھی مدلّل ثابت ہونگے،ایک صحابی حضرت عبادہؓ نے اُس نقدانقد لین دین کو سود سمجھا، جبکہ دوسرے صحابی حضرت معاویہ جو خلیفہ بھی رہے اور کاتبِ وحی بھی رہے، اُنہوں نے اس حدیث کو صحیح نہیں سمجھا، اسی حوالہ سے آپ بتادیجئے ۔ قرآن وسنت کی روشنی میں کہ ہم دونوں صحابی میں سے کس کے قول کو صحیح سمجھیں؟
نوٹ : احادیث کے صفحہ نمبر 209,215/216,219 کی فوٹو کاپی اٹیچ ہیں۔
اولاً تو سائل کو چاہیئے کہ صحابہ کرام کے درمیان فیصل بننے کے بجائے پہلے اہلِ علم سے علم حاصل کرے ،اوراس کا وقت اگر نہ ہو تو اپنے عمل سے متعلق مسائل معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کرے ،اور اپنے دین وایمان کے بچاؤ کی فکر کرے، تاہم اہلِ علم و فہم کے لئے اس کا مختصر اور اصولی جواب تحریر کیا جاتا ہے، ملاحظہ ہو:
اولاً واضح ہو کہ فقہاء احناف نے ربوا کی علت دو چیزوں کو بیان فرمایا ہے (1) جنس (۲) قدر ۔ اب مذکور را حادیث میں غور کیا جائے، تو معلوم ہو جائے گا کہ ان میں کسی قسم کا کھلا تضاد نہیں۔ جہاں کہیں نقد لین دین کا ذکر آیا ہے ، وہیں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر جنس ایک ہو تو پھر برابر سرابر اور نقدا نقد بیچا جائے، اور جہاں جنس ایک نہ ہو وہاں تفاضل تو جائز ہے، مگر ادھار جائز نہیں۔
اور ثانیاً یہ کہ مذکور قاعدے کی روشنی میں منسلکہ احادیث میں غور کیا جائے ،تو بخوبی واضح ہو جاتا ہےکہ صفحہ ٢١٥ / ٢١٦ پر موجود حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی روایت میں عین سود کہنے کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جنس ایک ہی تھی یعنی کھجور ،اور انہوں نے خراب کھجور زیادہ دے کر اچھی کھجور کم مقدار میں لیں (حالانکہ ربوا کے معاملہ میں جیّد اور ردی حکماً برابر ہیں) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اسی بات کو حضرت عبادة بن صامت رضی اللہ عنہ ( صفحہ ۲۰۹) بیان فرمارہے ہیں۔ جس کا اندازہ الفاظِ حدیث میں غور کر کے کیا جا سکتا ہے۔
ثالثاً یہ کہ سائل حضرات صحابہؓ میں تقابل کرتے ہوئے جس طرح قرآن سے استدلال کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ صحیح نہیں، بلکہ اسے جاننا چاہیئے کہ قرآن نے ربا النسیئہ کو حرام قراردیاہے۔ زمانہ جاہلیت میں رقم دے کر زائد رقم واپس لی جاتی تھی جو کو قرآن نے حرام فرما دیا ، جبکہ آپﷺ نے ربوا کی دوسری قسم کی حرمت کو بھی بیان فرما دیا کہ جہاں جنس ایک ہو اور وہ چیز کیلی یا وزنی بھی ہو تو وہاں تفاضل بھی حرام اور ادھار بھی حرام ۔ اسی بات کو حضرت عبادة بن الصامت نے بیان کیا ہے اور سائل نے نادانستگی میں ان کا تقابل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے شروع کر دیا جس سے احتراز لازم ہے۔
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0