کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں گندم یا مکئی کے دانے جب پیسنے کے لئے دیتے ہیں۔ تو چکی والا پہلے اس گندم یا مکئی کے دانوں سے اپنے لئے برائے اجرت مخصوص وزن جدا کر دیتا ہے یا پیسنے کے بعد مخصوص وزن کا آٹا الگ کر دیتا ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ مالک کی رضا مندی کے ساتھ یہ اجرت دی جاتی ہے ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں جب فصل کٹ جاتی ہے یا گھاس کاٹنے کے بعد اس کی گیڈیا (بنڈل) بنائے جاتے ہیں، پھر جب مالک اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے تو یہ اونٹ کی ذریعہ سے کرتا ہے پھر اونٹ والا مخصوص اندازے کے مطابق اپنے لئے گیڈیا جدا کرتا ہے۔ مالک کی اجازت کے ساتھ تو کیا یہ عند الشرع جائز و روا ہے یا نہیں؟
مذکورہ دونوں صورتوں میں کام کرنے سے پہلے اسی جنس سے مخصوص متعین مقدار بطورِ اجرت وصول کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، البتہ عمل کرنے کے بعد معمول بہ چیز سے اجرت وصول کرنا قفیز الطحان میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس کی بناء پر اس سے احتراز ضروری ہے ۔ البتہ اس سلسلہ میں بھی جائز طریقہ ممکن ہے وہ اس طور پر کہ گندم پسائی کی اجرت مطلق گندم یا آٹے کا ایک خاص وزن، اسی طرح بوجھ برداری کی اجرت میں مطلقاً کچھ نا کچھ بنڈل بطورِ اجرت مقرر کر لیے جائیں اگر چہ عمل کے بعد معمول بہ چیز سے ہی ادا کر دیا جائے تو یہ منع اور ناجائز نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے اور ایسے ہی معاملہ کیا جانا چاہیئے ۔
کمافی الدر المختار: (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله والأصل في ذلك نهيه - صلى الله عليه وسلم - عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء.والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز اھ(6/56)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0