یقیناً، یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ "اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے"، لیکن بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں "وعدہ" کا لفظ استعمال نہیں ہوا، تو پھر علما یہ لفظ کیوں استعمال کرتے ہیں؟
قرآن مجید میں "رزق" کے بارے میں کئی مقامات پر یقین دہانی اور ضمان یعنی گارنٹی فراہم کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، مثلاً:
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ [هود: 6]
ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے، اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ ہر بات ایک واضح کتاب میں درج ہے۔ آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی (سورہ ہود: 6)
یہ آیت اور دیگر نصوص رزق کے اللہ کی طرف سے ہونے اور اس کی ضمانت پر دلالت کرتی ہیں۔
اگرچہ قرآن میں براہِ راست "وَعْدُ الرِّزْق" (رزق کا وعدہ) کے الفاظ نہیں آئے، لیکن جب اللہ تعالیٰ خود فرمائے کہ ہر مخلوق کا رزق میرے ذمے ہے، تو یہ وعدہ سے کم نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یقین دہانی ہے۔
اسی بنا پر علما و مفسرین "اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے" کا جملہ بیانِ معنی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، نہ کہ الفاظِ قرآن کی نقل کے طور پر۔لہذا،کوبلاوجہ وساوس میں مبتلاءہونےاورشک وشبہ میں پڑنے سے گریزچاہیے۔
کما فی تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن : وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها كل في كتاب مبين (6)
قوله تعالى: (وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها) " ما" نفي و" من" زائدة و" دابة" في موضع رفع، التقدير: وما دابة." إلا على الله رزقها"" على" بمعنى" من"، أي من الله رزقها، يدل عليه قول، مجاهد: كل ما جاءها من رزق فمن الله. وقيل:" على الله" أي فضلا لا وجوبا. وقيل: وعدا منه حقا.۔۔۔۔۔۔۔ وذكر الترمذي الحكيم في" نوادر الأصول" بإسناده عن زيد بن أسلم: أن الأشعريين أبا موسى وأبا مالك وأبا عامر في نفر منهم، لما هاجروا وقدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك وقد أرملوا من الزاد، فأرسلوا رجلا منهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يسأله، فلما انتهى إلى باب رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعه يقرأ هذه الآية" وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها ويعلم مستقرها ومستودعها كل في كتاب مبين" فقال الرجل: ما الأشعريون بأهون الدواب على الله، فرجع ولم يدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لأصحابه: أبشروا أتاكم الغوث، ولا يظنون إلا أنه قد كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فوعده، فبينما هم كذلك إذ أتاهم رجلان يحملان قصعة بينها مملوءة خبزا ولحما فأكلوا منها ما شاءوا، ثم قال بعضهم لبعض: لو أنا رددنا هذا الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليقضي به حاجته، فقالوا للرجلين: اذهبا بهذا الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنا قد قضينا منه حاجتنا، ثم إنهم أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله ما رأينا طعاما أكثر ولا أطيب من طعام أرسلت به، قال:" ما أرسلت إليكم طعاما" فأخبروه أنهم أرسلوا صاحبهم، فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره ما صنع، وما قال لهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ذلك شي رزقكموه الله".» (9/ 6)
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0