(عربی سوال کا اردو ترجمہ) ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کچھ جھیلیں کاروباری حضرات کی ملکیت میں ہیں یا وہ ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ ان جھیلوں میں مچھلیاں پالتے ہیں، پھر عوام کے لیے ایک مقررہ رقم کے عوض ان جھیلوں کو کھول دیتے ہیں۔ زائر (آنے والا شخص) کو مخصوص وقت کے لیے مچھلی پکڑنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اسے کانٹا (Fishing Rod) دیا جاتا ہے۔ اگر وہ مچھلی پکڑ لے تو وہ مچھلی اس کی ہو جاتی ہے، اور اگر کچھ نہ پکڑ سکے تو خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔کیا اس قسم کا معاہدہ شرعاً جائز ہے؟کیا اس میں غرر یا جوا پایا جاتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر لوگوں سے لی جانے والی رقم محض جھیل میں شکار کرنے اور تفریح کرنے کے حق کے بدلے میں ہو، اور مچھلی حاصل کرنا اس کا لازمی مقصد نہ ہو، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔البتہ اگر اصل مقصد مچھلی حاصل کرنا ہو اور مچھلی کی قیمت کے طور پر رقم لی جائے تو ایسی صورت میں غرر کی وجہ سے یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہوگا۔
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»:
«ولا يجوز إجارة ماء في نهر أو قناة أو بئر، وإن استأجر النهر والقناة مع الماء لم يجز أيضا لأن فيه استهلاك العين أصلا والفتوى على الجواز لعموم البلوى ولو استأجر أرضا مع الماء تجوز تبعا.»(ج:4،ص:441)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» :
الإجارة إذا وقعت على العين لا تصح، .. فلا تجوز على استئجار الآجام والحياض لصيد السمك... والحيلة في الكل أن يستأجر موضعا معلوما لعطن الماشية ويبيح الماء والمرعي،»(ج:6،ص:63)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0