کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی تین سال پہلے لاہور میں ہوئی تھی،میں اکتوبر میں کراچی اپنی امی کے گھر آئی تھی ، ایک ماہ بعد میرے شوہر نے موبائل پر میسج کر کے بولا کہ اگر تم 16 نومبر تک واپس نہیں آئی، تو میری طرف سے طلاق ہے، تو میں اپنے والد کے ساتھ اپنے سسرال چلی گئی 15 نومبر کو میں وہاں پہنچ گئی، لیکن جب میں نے سب کو یہ بتایا کہ میرے شوہر ڈیڑھ سال پہلے بھی دو الگ الگ وقت میں مجھے تین تین طلاقیں دے چکا ہے،تو سب نے مجھے کہا کہ تمہاری طلاق تو پہلے ہی ہو چکی ہے، اور میرا بیٹا بھی مو ماہ کا ہے ،وہ دو دفعہ طلاق کے بعد پیدا ہوا ہے،میں نے اپنی پہلی دو دفعہ طلاقوں کا کسی کو نہیں بتایا تھا، اور میں اس لئے اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی کہ مجھے اتنا ہی علم تھا کہ تین دفعہ الگ الگ وقت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،اور جب میں لاہور گئی تھی، تو میرے شوہر نے ایک فتویٰ لیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو پہلے کبھی طلاق نہیں دی ہے، وہ فتوی بھی میں آپ کو بھجوا رہی ہوں، برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے جواب دیں ۔
نوٹ: شوہر کے الفاظ طلاق یہ تھے، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،تین مرتبہ یہ الفاظ بولے تھے ۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق اُصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،اور سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔ اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں عورت اپنے خاوند پر اُسے تین طلاق دینے کا دعوی کرتی ہے ،اور اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ بھی نہیں ،البتہ وہ اپنے کانوں سے تین بار طلاق کا سننا بیان کرتی ہے،اور اس بیان پر حلف اُٹھانے کے لئے بھی تیار ہے،جبکہ شوہر اس کو طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اور جب ایسی صورت حال ہو جائے کہ عورت الفاظِ طلاقِ ثلاثہ اپنے کانوں سے سننا بیان کر رہی ہو ،اور اُسے بخوبی یاد بھی ہو، اور اس کا یہ بیان واقعۃً درست بھی ہو کہ اس کے خاوند نے اُسے تین طلاقیں دیدی ہیں،مگر اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ نہ ہو اور شوہر بھی منکر ہو ۔ البتہ عورت اپنے بیان پر حلف اٹھا سکتی ہو، اور آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو۔ تو ’’المرأة کا لقاضی‘‘ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اُسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلّقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہر گز اپنے اوپر قدرت نہ دے ۔ البتہ اگر یہ معاملہ قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور عورت اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کر سکے اور قاضی مدعی علیہ (منکر) یعنی خاوند کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اُسے خاوند کے ساتھ بھیج دے۔تو اُس صورت میں وہ اگر چہ گنہگار نہ ہوگی، لیکن جب اُسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہو تو حتی الامکان اُسے حلالۂ شرعیہ سے قبل اپنے اوپر قدرت نہ دے بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے۔
كما في حاشية ابن عابدين: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. و في البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. (3/ 251)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0