جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
جناب میں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں ،جو کہ لوگوں کو مکان بنانے اور خرید نے کے لئے قرضہ دیتے ہیں۔ قرضہ کتنے مہینوں میں واپس کرنا ہے ،اور قسط کتنی ہوگی، یہ سب پہلے ہی طے ہو جاتا ہے ،میرا کام اس ادارے میں کمپیوٹر آپریٹ کرنا ہے ،کیا یہ جائز ہے؟ مہربانی فرما کر جواب ضرور دیں۔
اگر سائل کا مذکور معاملات کے انجام دینے دلانے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ،بلکہ وہ صرف کمپیوٹر پروگرام درست رکھنے وغیرہ سے متعلق اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہو تو اس صورت میں اگر چہ اُسے مذکور ڈیوٹی انجام دینے کی گنجائش ہے، مگر اس سے بھی احتراز بہتر ہے۔
قال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في صحيح مسلم: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء» اھ (3/ 1219)
و في تكملة فتح الملهم : قوله وكاتبه لأن كتابة الربا اعانة عليه (إلى قوله ) فاذا وجد بنك معظم حلال، جاء فيه التوظف للنوع الثانی من الاعمال اھ (۱/ ۲۱۹)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0