کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ میرے والد اختر علی مغل نے ایک پلاٹ خریدا، 1973 میں اس پلاٹ کو میرے والد اختر علی اور میں عابد حسین مغل ہم دونوں نے مل کر بنیاد سے لے کر اوپر تک پورا تعمیر کیا ، ہمارا گھر تقریباً 1982 تک تعمیر ہو چکا تھا، میں الگ کام کرتا تھا لوہے وغیر ہ کا، جبکہ میرے والد فروٹ وغیرہ بیچا کرتے تھے ، جس میں سے میں گھر کے خرچے کے الگ پیسے دیتا تھا اپنی والدہ کو اور گھر کی تعمیر کے لئے الگ سے خرچ کرتا تھا، 1987 میں میری شادی ہوگئی اور گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میں اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہو گیا، اور اپنے گھر والوں کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتا رہا، 2000 میں والد کے انتقال کے بعد میرے چھوٹے بھائی نے ایک چھت ڈال کر اس گھر کو مزید تعمیر کروایا، اور اس گھر کو دو جگہ کرایہ پر بھی دیا اور خود بھی اسی گھر میں رہائش پذیر ہے ، مذکور مکان کا کرایہ 18، 19 سال سے اپنے پاس ہی رکھا ہے کسی کو نہیں دیا اور والد صاحب کی میراث ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی، اگر والد صاحب کی میراث تقسیم ہو تو والد صاحب کے انتقال کے وقت کے حساب سے تقسیم ہو گی یا تقسیم کے وقت کے حساب سے راہ نمائی فرما کر احسان مند فرمائیں۔
نوٹ : سائل نے مکان کی تعمیر میں رقم خرچ کرتے وقت کسی قسم کی کوئی صراحت نہیں کی تھی، اور سائل کے چھوٹے بھائی نے مذکور مکان کی تعمیر کے وقت کسی وارث سے اجازت بھی نہیں لی۔
سائل نے مکان کی تعمیر کے وقت والد کو جتنی رقم دی تھی اگر اس رقم کے متعلق والد پر قرض ہونے وغیرہ کی صراحت نہیں کی تھی (جیسا کہ سوال کے نوٹ سے بھی واضح ہو رہا ہے) تو یہ سائل کی طرف سے والد پر تبرّع و احسان شمار ہو گا ، اب اس کا مطالبہ دیگر ور ثاء سے کرنا درست نہیں ، البتہ دیگر ورثاء سائل کی خدمات کو مدنظر رکھ کر ان کے ساتھ تعاون کریں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
جبکہ سائل کے بھائی نے جو رقم والد کی وفات کے بعد دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر مکان کی تعمیر میں خرچ کی ہے، وہ اس کے واپس لینے کا مجاز نہیں ، البتہ وہ صرف ملبہ کی قیمت ترکہ کی تقسیم سے قبل لے سکتا ہے، جبکہ مذکور مکان کے کرایہ میں تمام ورثاء کا حق ہے ، اس لئے سائل کے چھوٹے بھائی پر لازم ہے کہ وہ حصص تمام ورثاء میں حسب شرع تقسیم کرے،اور جب مذکور مکان کی تقسیم ہو گی تو وہ مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے تقسیم ہو گی۔
كما في الفتاوى الخيرية: (سئل) في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دارا واحد وخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبها سواء، فحصلا بكسبها اموالا ولا يعلم التفاوت ولا التساوى فيه ولا يمكن التمييز فهل والحال هذه يكون المال المجتمع بانواعه بكسبهما سوية ام لا ؟ (فاجاب) نعم هو بينها سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختصر احدھما به ولا بزيادة على الآخر اھ (۱/ ۱۱۱)۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ثم يأخذ الغاصب رأس ماله وهو البذر وما غرم من النقصان، وما أنفق على الزرع ويتصدق بالفضل عند الإمام ومحمد فلو غصب أرضا فزرعها كرين فأخرجت ثمانية، ولحقه من المؤنة قدر كر ونقصها قدر كر فإنه يأخذ أربعة أكرار ويتصدق بالباقي، وقال أبو يوسف: لا يتصدق بشيء وبيانه في التبيين قال في الدر المنتقى: وأفاد أنه لا يصرفه لحاجته إلا إذا كان فقيرا كالغني لو تصرف تصدق بمثله ولو أدى لمالكه حل له التناول لزوال الخبث ولا يصير حلالا بتكرار العقود وتداول الألسنة ذكره القهستاني اھ (6/ 187)۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: قلت ومما يكثر وقوعه إلخ) (إلی قوله) هذا إذا كسدت وانقطعت أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير (4/ 533)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0