السلام علیکم
میں ایک کمپنی کے ساتھ کام کر رہا ہوں ، اور ان کو اپنی سیلز کی سروس پرووائڈ کرتا ہوں،کمپنی ایک سیرپ بیچتی ہے جو بالکل ”نان الکوحل “ہے ، کوئی الکوحل ملا ہوا نہیں ہےاس میں،ہاں لیکن وہ سیرپ کسٹمر اپنی مرضی سے الکوحل یا شراب کے ساتھ ملا کر بھی پی سکتے ہیں،ہماری کمپنی کا پروڈکٹ تو ”نان الکوحل“ ہے ، لیکن کمپنی اپنی مارکیٹینگ میں یہ پروموٹ کرتی ہے کہ یہ سیرپ الکوحل کے ساتھ پی کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
مجھے جاننا تھا کہ میرا اس صورت میں اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور سیرپ کے بارے میں جب سائل کو یقین ہے کہ وہ الکوحل یا دیگر کسی بھی قسم کے حرام اجزاء سے پاک ہے تو سائل کے لئے مذکور کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس سیرپ کو سیل کر کے اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔ اس سیرپ کو فروخت کرنے کے بعد اگر کوئی شراب کے ساتھ استعمال کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی عمل ہوگا۔ سائل کی آمدنی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
الدر المختار (بخلاف غيرهما من الهوام) فلا يجوز اتفاقا كحيات وضب وما في بحر كسرطان، إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه.والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى، واعتمده المصنف وسيجيء في المتفرقات ۔(باب البیع الفاسد ج:5 ص:69 ط: سعید کراتشی)۔
و في الفتاوى الهندية:وأما شرائط الصحة فمنہا رضا لمتعاقدین (الی قولہ)ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا ،فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا الخ(کتاب الاجارۃ الباب الاول ج:4 ص:411 ط: دار الفکر ۔ بیروت)۔
و فی بحوث في قضايا فقهية معاصرة : العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر، أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى. (ص:341)۔
و فی فقہ البیوع :والحاصل أن الإجارة في الخدمة المباحة إنما تصح إذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها. ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتها معلومة. فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين، صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام... أما إذالم تعرف أجرة الخدمة المباحة على حدتها، فالإجارة فاسدة، ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة …وعلى هذا ، فإن ما يُقابل أجر المثل للخدمة المباحة فى راتبه ينبغى أن يكون حلالاً.(ج:2 ص1058)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0