کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں، موروثی جگہ ہے جو کہ تقسیم نہیں ہوئی اور فارغ ہی پڑی ہے، کوئی وارث اگر وہاں رہنا چاہتا ہے، یا استعمال کرنا چاہتا ہے تو کیا کرایہ دے کر وہ ایسا کر سکتا ہے؟
واضح ہوکہ ترکہ جتنا جلدی ممکن ہو، تمام ورثاء میں تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی بد مزگی، آپس کے اختلافات اور کسی کی حق تلفی تک بات نہ پہنچے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل اوردیگر وارثین کو چاہیئے کہ ترکہ جلد ازجلد تقسیم کرکےہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دیدیا جائے، تاہم اگر ورثاء باہمی رضامندی سے ترکہ کی تقسیم فی الحال نہ کررہے ہوں،اور سائل اس موروثی زمین کو کرایہ پر لینا چاہتےہوں تویہ بھی جائز ہے، اور ایسی صورت میں حاصل ہونے والا کرایہ تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔
کما فی شرح المجلۃ : لیس لاحد الشریکین ان یجبر الآخر بقولہ اشتر حصتی او بعنی حصتک الخ
وتحت ھذہ المادۃ : ذکر فی الحامدیۃ عن فتاوی قارئ الھدایۃ انہ اذا باع الشرکاء حصتھم من الثمرۃ الا واحدا منھم عناداً والمشتری لا یرضی الا بشرء الجمیع، وکذا اذا آجروا الا واحدا منھم لا یجبر الآبی ان یبیع مع الشرکاء بل یبیعون حصتھم فقط اذ تجذ الثمرۃ وتقسم ، وکذا فی الدار الموقوفۃ لا یجبر علی الاجارۃ بل یؤجر شرکاؤہ حصصھم (الی قولہ) وفی الحامدیۃ سئل فی دار مشترکۃ بین زید وعمرو غیر قابلۃ للقسمۃ سکنھا زید وحدہ ولا یرضی بسکنی معہ وقال اما ان تؤجرنی حصتک او تستأجر منی حصتی او یسکنھا کل منا بمفردہ بحسب حصتہ مدۃ فھل لہ ذالک؟ الجواب نعم، ویأمرہ القاضی زیدا باختیار وجہ من الاوجہ الثلاثۃ الخ ( الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف فی الاعیان المشترکۃ، ج4، ص13، مادۃ، 1072، ط: حقانیۃ)۔
وفیہ ایضاً: الاموال المشترکۃ شرکۃ الملک تقسم حاصلاتھا بین اصحابھا علی قدر حصصھم الخ (الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف فی الاعیان المشترکۃ، ج4، ص14، مادۃ1073، ط: حقانیۃ)۔
وفی الدر المختار: لو واحد من الشرکین سکن فی الدار مدۃ مضت من الزمن فلیس للشریک ان یطالبہ بأجرۃ السکنی ولا المطالبۃ بأنہ یسکن من الاول لکنہ ان کان فی المستقبل یطلب ان یھائی الشریکا، یجاب فافھم ودع التشکیکا الخ (فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج: 4، ص: 337، ط: سعید)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0