السلام علیکم !صحاح ستہ احادیث کی کتب ہیں، جبکہ ان کتب میں بہت سی روایات ایسی ہیں جو صرف صحابہ کرام (رض) کے واقعات نقل کئے گئے ہیں جو حدیث نہیں ہیں، بلکہ عمل / قول صحابی ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ پھر ان کتب کو احادیث کی کتب کیوں کہا جاتا ہے؟براہ کرم جواب ضرور د یجئے گا، مجھ سے بھی کسی نے پوچھا ہے؟
صحابہ کے وہ اقوال واعمال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے بغیر سمجھ نہ آتے ہوں یا وہ واقعات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آئے یا آپ کے علم میں آئے اور آپ نے ان پر نکیر نہیں فرمائی وہ بھی حدیث کے زمرے میں آتے ہیں اس لیے کتب حدیث میں ان کو بھی اسی زمرے سے نقل کیا جاتا ہے۔
ففي شرح نخبة الفكر: الحديث ما جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم ، والخبر ما جاء عن غيره ( الى قوله ) فكل حديث خبر من غير عكس، و في شرح نزهة الفكر : و الحديث في اللغة : ضد القديم. وفي اصطلاح هو : ما اضيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم من قول أو فعل أو تقرير أو صفة . أو ما أضيف إلى الصحابي أو التابعي. ويرادفه السنة ( ص: ۸) والله اعلم بالصواب