السلام علیکم! بخدمت جنا ب مفتی صاحب! گزارش یہ ہے کہ ہماری کمپنی اپنے لیٹ آنے والے ورکر پر جرمانہ لگاتی ہیں، جیسے ٹائمنگ ہیں ۸:۳۰ کی ہے، اور وہ آتے ہیں ۹:۰۱ منٹ پر ، جس میں ۳۰ منٹ کی رعایت ہیں ،جو ورکر ۹:۰۰ بجے کے بعد آتا ہیں اُس پر جرمانہ لگاتے ہیں یہ درست ہیں کہ نہیں؟
لیٹ آنے والے ملازمین پر مالی جرمانہ لگانا تو درست نہیں، کمپنی انتظامیہ اگر یہ نظم مقرر کر لے کہ ملازم کا رعایتی وقت کے بعد آنے پر اس کی تنخواہ سے اتنی مقدار کٹوتی کرےگی، جتنی تاخیر ماہانہ ہوتی ہے تو یہ کٹوتی جائز و درست ہوگی، اور ایسا کرنے سے کمپنی انتظامیہ کا مقصد بھی پورا ہو جائےگا۔
ففی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ (4/ 61)۔
وفیه أیضا: تحت (قوله: لو مدرس المدرسة) (إلی قوله) و في فتاوى الحانوتي يستحق المعلوم عند قيام المانع من العمل ولم يكن بتقصيره سواء كان ناظرا أو غيره كالجابي. (إلی قوله) وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا. (4/ 372) واللہ اعلم بالصواب
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0