آیات کی تفسیر و تشریح

لعنت کے گالی ہونے اور اللہ تعالی کا لعنت کرنے کی وضاحت

فتوی نمبر :
84472
| تاریخ :
2025-07-22
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن / آیات کی تفسیر و تشریح

لعنت کے گالی ہونے اور اللہ تعالی کا لعنت کرنے کی وضاحت

کیا لعنت گالی ہے؟ جبکہ اللہ تو گالیاں نہیں دے سکتا، مگر اس نے قرآن کریم میں لعنت کی ہے۔ اگر مراد بیزاری ہے تو کیا جن صحابہ کرام کے کچھ اقدامات بارے صحاح ستہ میں تحفظات کا اظہار کیا گیا اگر کوئی ان کے ان امور سے برائت کا اظہار کرے لفظ لعنت استعمال کرتے ہوئے تو اسے شرعا سزا دی جاسکتی ہے؟اگر اسے مار دیا جائے تو روز قیامت کسی کا قتل محض اظہار برائت کے معاف ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

"واضح ہوکہ لعنت" کے لغوی معنی ہیں دھتکارنا اور دور ہٹانا،شرعی اصطلاح میں لعنت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص یا گروہ کواپنی رحمت سے دور فرما دے، اور اس پر ناراضی نازل کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کفار، منافقین، ظالمین، شیطان اور اللہ ورسول کے دشمنوں پر لعنت کی ہے (مثلاً: النساء: 93، الاحزاب: 64، الفتح: 6)۔ لہٰذا "لعنت" بذات خود گالی نہیں ہے، بلکہ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ پھرشرعی اصطلاح میں لعنت کی دو قسمیں ہیں:
1۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت:
یہ اللہ ربّ العزت کا ایک فعلی وصف (صفتِ فعلیہ) ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ کسی بندے سے ناراضگی، غضب اور عدمِ رضا کے باعث اسے اپنی رحمت و خیر سے محروم کر دینا اور اس کو اپنے قرب سے دور کر دینا۔ کتاب و سنت میں متعدد مقامات پر کبائر کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت وارد ہوئی ہے، لہٰذا یہ صرف کبیرہ گناہوں پر ہی صادر ہوتی ہے اور بلاوجہ یا معمولی گناہ پر کسی پر لعنت کرنا شرعاً جائز نہیں۔
2۔مخلوق کی طرف سے لعنت:
یعنی کسی شخص کے لیے خیر و رحمت سے محرومی کی دعا کرنا۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
• عمومی لعنت: جیسے یہ کہنا: "لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَافِرِينَ" (اللہ کی لعنت ہو تمام کفار پر)، تو یہ جمہور اہلِ علم کے نزدیک جائز اورمشروع ہے۔
• تعیینی لعنت: یعنی کسی خاص فرد پر لعنت کرنا، جیسے یہ کہنا کہ "فلاں شخص پر اللہ کی لعنت ہو" تو اس صورت میں اہلِ علم نے شدید احتیاط کا حکم دیا ہے، اور یہ جائز صرف اس وقت ہے جب قرآن و سنت میں کسی معین شخص پر لعنت صراحتاً واردہو، یا وہ شخص شرعی طور پر اس صفت کا یقینی مصداق ہو، جیسے ابوجہل، ابولہب ،فرعون،ہامان وقارون وغیرہ۔ بصورت دیگر کسی معین شخص پر لعنت کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کے اجماعی عقیدہ کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ذاتِ مقدسہ معصوم عن الخطاء نہیں،اوران کاباہمی اجتہادی اختلاف بھی تاریخی اعتبار سے ثابت ہے، البتہ وہ عدالت، تقویٰ، خلوص، قربانی اور دین کی خدمت میں ایسی بلند مرتبہ ہستیاں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کی رضا و مقبولیت کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا"رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ" (التوبہ: 100، الفتح: 29) اس لیےان کےباہمی اختلافات کو طعن، تبرا، تنقیص یا لعنت کا ذریعہ بنانا جائزنہیں، ایسے قول و فعل کواصطلاح شرع میں "سبّ صحابہ" کہا جاتا ہے، یہ فعل نہ صرف فسق کے درجے میں ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر کے قریب بھی جا پہنچتا ہے، خصوصاً جب یہ عداوت، بغض اورشعوری انکارِ فضیلت کے ساتھ کیا جائے۔ جمہور فقہاءِ کرام کے نزدیک "سب صحابہ "گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے، جس پر ریاستِ اسلامی کو تعزیری سزا دینے کا اختیار حاصل ہے ۔
لہذا،اگر کوئی شخص کسی صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ کے کسی معین عمل سے براءت (یعنی اظہارِ لا تعلقی) کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر لعنت بھی کرے، تو یہ طرزِ عمل شریعت کی نظر میں نہایت سخت اور سنگین جرم ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کے عقیدۂ کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں، ان میں سے کسی ایک کی بھی تنقیص یااہانت، ایمان کے تقاضوں کے منافی اور" فساد فی الارض" کے زمرے میں آتی ہے۔ ایسے اقوال سے باز رہنا اور صحابہ کرام کے بارے میں خیر و ادب پر مشتمل طرزِ اظہار اختیار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
تاہم ،اس سب کے باوجود اسلام میں قتلِ ناحق حرام ہے، خواہ مقتول فاسق یا بدعقیدہ ہی کیوں ناہو،لہذاکسی پر بدعقیدگی یا گمراہی کا الزام لگنے سے ذاتی اقدام کے طورپر اس کا قتل ہرگزجائزنہیں ہوجاتا۔ اس لیے اگر کوئی شخص اپنی رائے سے کسی کو گستاخ صحابہ قراردیکرقتل کرے، تو وہ قتلِ ناحق شمارہوگا، اورقاتل پردنیوی قانون کے مطابق سزاجاری ہوگی اوروہ روزِ قیامت بھی قابل مؤاخذہ قرارپائے گا۔
خلاصہ یہ ہواکہ "لعنت" بذات خود گالی نہیں، مگر غیر مستحق افراد پر اس کا اطلاق گالی کے حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔صحابہ کرام پرلعنت بھیجنا حرام اور موجبِ تعزیر ہے۔اگر کوئی شخص کسی صحابی کے فعل سے لفظ لعنت کے ساتھ براءت کرے ، تو یہ سبّ صحابہ کے مترادف ہے اوروہ شرعی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے،البتہ کسی کے اس عمل پر ذاتی طور پراسے قتل کر دینا جائز نہیں، یہ قتلِ ناحق ہے،اورقاتل کوقانون کے مطابق سزادی جائے گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

«تهذيب الأسماء واللغات» (4/ 126):
«لعن: اللعن في اللغة: هو ‌الطرد ‌والإبعاد، ‌يقال ‌لعنه ‌الله تعالى يلعنه لعنا فهو ملعون ولعين، ويقال رجل لعنة بفتح العين أي: كثير اللعن، ولعنة بإسكانها أي يلعنه الناس»
«معجم مقاييس اللغة» (5/ 252):
«‌‌(لعن) اللام والعين والنون أصل صحيح يدل على إبعاد وإطراد. ولعن الله الشيطان: أبعده عن الخير والجنة.»
«مشكاة المصابيح» (3/ 1696):
وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ‌سألت ‌ربي ‌عن ‌اختلاف ‌أصحابي ‌من ‌بعدي ‌فأوحى ‌إلي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم» . رواه رزين
«مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» (9/ 3882):
«(فمن أخذ بشيء مما هم عليه) : بيان شيء (من اختلافهم) : بيان ما (فهو عندي على هدى) ، وفيه أن اختلاف الأئمة رحمة للأمة. قال الطيبي: المراد به الاختلاف في الفروع لا في الأصول، كما يدل عليه قوله: فهو عندي على هدى. قال السيد جمال الدين: الظاهر أن مراده صلى الله عليه وسلم الاختلاف الذي في الدين من غير اختلاف للغرض الدنيوي، فلا يشكل باختلاف بعض الصحابة في الخلافة والإمارة. قلت إن اختلاف الخلافة أيضا من باب اختلاف فروع الدين الناشئ عن اجتهاد كل، لا من الغرض الدنيوي الصادر عن الحظ النفسي، فلا يقاس الملوك بالحدادين»
«المنهل الروي في مختصر علوم الحديث النبوي» (ص112):
«‌الثاني ‌الصحابة ‌كلهم ‌عدول ‌مطلقا ‌لظواهر ‌الكتاب ‌والسنة ‌وإجماع من يعتد به بالشهادة لهم بذلك سواء فيه من لابس الفتنة وغيره ولبعض أهل الكلام من المعتزلة وغيرهم في عدالتهم تفصيل واختلاف لا يعتد به وأفضلهم على الإطلاق أبو بكر ثم عمر بإجماع أهل السنة ثم عثمان ثم علي عند جمهورهم»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 238):
«‌والحاصل ‌أنه ‌لا ‌شك ‌ولا ‌شبهة ‌في ‌كفر ‌شاتم ‌النبي صلى الله عليه وسلم وفي استباحة قتله، وهو المنقول عن الأئمة الأربعة، وإنما الخلاف في قبول توبته إذا أسلم. فعندنا وهو المشهور عند الشافعية القبول. وعند المالكية والحنابلة عدمه بناء على أن قتله حدا أو لا. وأما الرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة»
«الوجيز في أسباب ونتائج قتل عثمان» (ص125 بترقيم الشاملة آليا):
«وقال العلامة علي القاري: (‌وأما ‌من ‌سب ‌أحدا ‌من ‌الصحابة ‌فهو ‌فاسق ‌ومبتدع ‌بالإجماع، إلا إذا اعتقد انه مباح، كما عليه بعض الشيعة وأصحابهم، أو يترتب عليه ثواب كما هو دأب كلامهم، أو اعتقد كفر الصحابة وأهل السنة في فصل خطابهم؛ فانه كافر بالإجماع.»
تنبيه الولاة والحكام، ص:195:
"والحاصل أن الحكم بالكفر علي ساب الشيخين أو غيرهما من الصحابة مطلقا قول ضعيف لا ينبغي الإفتاء به ولا التعويل عليه لما علمته من النقول المعتبرة."
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 57):
«‌وأما ‌شرائط ‌جواز ‌إقامتها ‌فمنها ‌ما ‌يعم ‌الحدود ‌كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84472کی تصدیق کریں
0     315
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مافی الارحام کی تشریح

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ رحمٰن کی آیت نمبر 2 اور 3 میں کس قرآن کا ذکر ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • تفسیرِ کا اہل کون ؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’قد جاءکم من اللہ نور ‘‘سے آپﷺ کونور سے ثابت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ الأنبیاء کی آیت نمبر ۱۰۴ اور ۱۰۵ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر درود بھیجنے کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • الٹراساؤنڈ کے ذریعہ بچہ کی جنس کا علم ہو جانا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • عذاب نازل شدہ مقامات کی زیارت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ بقرہ آیت نمبر ۶۲ اور سورۃ مائدہ آیت نمبر ۶۹ کی تفسیر ی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ’’وَوَجَدَک عائِلًا فَأَغْنی‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’القاہا إلی مریم و روح منہ‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ القرآن اکیڈمی‘‘ میں تفسیر پڑھنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’حضورؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ﴿ و مکروا ومکراللہ﴾ کے ترجمہ سے متعلق ایک اشکال

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ ہود کی آیت نمبر۱۰۷ اور ۱۰۸ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’أن لیس للانسان إلا ماسعیٰ‘‘ اور احادیث میں ظاہری تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ہر چیز نے اپنے اصل کی طرف جانا ہے‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • کیا پاکستان دار الاسلام ہے ؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
Related Topics متعلقه موضوعات