کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں میری شادی مؤرخہ 25/07/2016 کو ہوئی تھی، میں نے 12/10/19 کو اپنی بیوی کو کورٹ کے ذریعے تحریری طلاق ارسال کی تھی،طلاق نامہ پر میں نے اپنی مرضی اور طلاق کی نیت سے دو گواہوں کے سامنے دستخط اور انگوٹھے کانشان لگایا تھا، مجسٹریٹ نے اپنی اسٹیمپ (stamp) لگائی، اور میں نے طلاق نامہ ارسال کر دیا ، جب طلاق نامہ میری سابقہ بیوی کے گھر پہنچا ،تو انہوں نے وصول نہیں کیا ، ڈاکیہ تین دن تک لگا تار ان کے گھر جاتا رہا، مگر انہوں نے طلاق نامہ وصول نہیں کیا، میں نے پھر پوسٹ آفس کے ذریعے ڈاک ارسال کیا، مگر انہوں نے وہ ڈاک سے بھی وصول نہیں کیا، میں نے طلاق نامہ کی ایک کاپی متعلقہ تھانے میں جمع کروادی، کیونکہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی جارہی تھی، اپنے سسرال والوں کی طرف سے ، میں نے طلاق نامہ کی ایک کاپی اپنے متعلقہ یونین کونسل میں بھی جمع کر وادی تھی، طلاق نامہ پر میں نے اپنی پوری نیت سے دستخط کیا تھا کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے رہا ہوں، طلاق نامہ پر موجود تین طلاق پڑھنے کے بعد میں نے دستخط کیا تھا، میں اپنی سابقہ بیوی کی ناجائز خواہشات پوری کرنے سے قاصر تھا، میرے والد (dialysis) کے مریض ہیں، اور ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ، میری بیوی کی دیرینہ خواہش تھی کہ میں اپنے والد سے بٹوارے کی بات کروں ، اور گھر کو بیچ کر علیحدہ ہو جاؤں ، صرف علیحدہ ہی نہ ہو جاؤں ، بلکہ اپنی بیوی کو اس کے نام پر علیحدہ گھر لیکر دوں جو اس کے میکے کے قریب ہو، اس کے علاوہ بھی بہت سارے مسئلے مسائل تھے ، میری اور میری بیوی کی ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی، جب کسی بھی طرح مصالحت نہیں ہو پائی تو میں نے یہ انتباہی فیصلہ کیا حق مہر کے بدلے ، میں نے اپنی سابقہ بیوی کو سونے کا سیٹ سہاگ رات کو دیا تھا، مجھے یہ فتوی چاہیئے کہ میری بیوی کو طلاق ہو گئی ہے یا ابھی بھی میری سابقہ بیوی میرے نکاح میں ہے ؟ میری رجوع کرنے کی بھی کوئی نیت نہیں ہے۔ 7/3/19 سے آج تک میری سابقہ بیوی اپنے میکے میں ہے۔
نوٹ : میری بیگم 7/3/19 سے مجھ سے لڑ جھگڑ کر اپنے میکے میں ہیں اور میں نے طلاق 12/10/19 دی ہے تو مجھ پر انکا خرچہ کب سے لازم ہو گا، طلاق کے بعد عدت کا یا شروع سے جب سے وہ گھر چھوڑ کر گئی تھی ؟ دوسری بات یہ طلاق کب سے شمار ہو گی ، جب سے میں نے دستخط کر دیے ہیں یا جب بیوی کو مل جائے ، جبکہ بیوی نے وصول نہیں کیا، اور اس سے انکار بھی کر سکتی ہے تو اس کے انکار کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟جبکہ میں خود اس بات کا اقراری ہوں کہ میں نے 19/10/2 کو طلاق دیدی ہے فقط ۔
سائل نے جس تاریخ (12/10/19) کو طلاق نامہ تیار کر واکر اس پر دستخط کیا تھا، تو اس دن سے اس کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی تھی، اگر چہ سائل کی بیوی نے طلاق نامہ وصول نہیں کیا ہو ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، سائل کی بیوی جب سے جھگڑ کر گئی ہے تو وہ ناشزہ ٹھہری ہے ، اس لئے وہ طلاق سے قبل اور طلاق کے بعد دورانِ عدت کے نفقہ کی حقدار نہیں۔
كما قال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ منتظم لمعان منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة وذكر الزوج يفيد العقد اھ (2/ 88)۔
و في الفتاوى الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته اھ (1/ 378)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: النشوز: هو معصية المرأة لزوجها فيما له عليها مما أوجبه له عقد الزواج. والنفقة تسقط بنشوز المرأة، ولو بمنع لمس بلا عذر بها، إلحاقاً لمقدمات الوطء بالوطء؛ لأن النفقة هي في مقابلة الاستمتاع، فإذا امتنعت فلا نفقة للناشز. وقال الحنفية: النفقة التي تسقط بالنشوز أو الموت هي النفقة المفروضة، لا المستدانة في الأصح اھ (10/ 7364)۔
وفيه ايضاً : تعجيل النفقة: إذا عجل الزوج نفقة زوجته، ثم طرأ ما يوجب سقوط النفقة كنشوز الزوجة أو موت أحد الزوجين، فليس للزوج أو لورثته في رأي أبي حنيفة وأبي يوسف أن يسترد شيئاً منها؛ لأن النفقة صلة أو هبة، والزوجية من موانع الرجوع في الهبة. (10/ 7406)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. و في الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية اھ (3/ 609)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0