میں نے اپنی بیوی کو اس کی غیر موجودگی میں مورخہ ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۹ کو اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنے والدین اور بھائی کی موجودگی میں ان الفاظ کے ساتھ ” میں نے اس کو طلاق دی" تین دفعہ طلاق کہہ دی ہے ، اور اب میں اس سے رجوع کرنا چاہ رہا ہوں۔ برائے مہربانی فتوی جاری فرمائیں کہ یہ طلاق قابلِ قبول ہے یا نہیں؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو سوال میں مذکور طلاق کے الفاظ " میں نے اس کو طلاق دی " تین مرتبہ کہہ دیے ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گذارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے عقدِ نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، اب اگر دوسرا شخص اسے ایک مرتبہ کی ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے گا تا کہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسا عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
كما قال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
و في أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ منتظم لمعان منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة وذكر الزوج يفيد العقد اھ (2/ 88)۔
و في الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، اھ (3/ 248)۔
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر اھ (3/ 248)۔
و في الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0