کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے، میں تھا، میر ابھائی تھا، میری بیٹی اور بیوی بھی تھی ، اس دوران میر اداماد آیا اور میری بیٹی سے ان کی لڑائی ہوئی، اسی لڑائی کے دوران آخر میں اس نے کہہ دیا ’’ تہ پہ ماطلاقہ ئے، تاتہ ما طلاق در کڑو‘‘ جس کا اردو ترجمہ اس طرح ہے کہ " تو مجھ پر طلاق والی ہے، تجھے میں نے طلاق دیدی‘‘ البتہ میر داماد کہتا ہے کہ میں نے دو دفعہ یوں بولا کہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے‘‘ یعنی تم مجھ پر مطلقہ ہو " بہر حال اس کے بعد میرا داماد وہاں سے اٹھا اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا کہ " میں بھی جوان ہوں تم بھی چھوٹی ہو ، میں تم سے بد دعائیں نہیں لونگا، میں نے تجھے آزاد کر دیا، میں انگوٹھا
بھی لگا کر دونگا ان الفاظ کے ساتھ وہ میری بیٹی کو مخاطب ہوا، اب میر اداماد دو دفعہ طلاق دینا مانتا اور تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ اس بات کا منکر ہے کہ اس نے یوں بولا ہو ،میں نے تجھے آزاد کر دیا، اب میری بیٹی اور داماد دونوں حاضر ہیں ان سے بھی آپ بیان لے لیں۔
بیان حلفی از جانب زوجہ مسماة -----:
میں مسماۃ ------اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر بیان حلفی دیتی ہوں، اگر میں جھوٹ بولوں یا غلط بیانی کروں تو مجھ پر اللہ تعالی کی لعنت ہو، اور اس کا قہر و غضب نازل ہو۔
یہ کہ میرے شوہر نے دو طلاقیں دے کر اٹھنے کے بعد جب واپس آئے تو یوں کہا کہ ”تم بھی چھوٹی عمر کی ہو اور میں بھی، میں تجھ سے بدعائیں نہیں لینا چاہتا، میں نے تجھے آزاد کر دیا، میں انگوٹھا بھی لگا کر دونگا یہ میرابیان حلفی ہے، جس کے لئے میں اللہ تعالی کے سامنے جوابدہ ہوں گی۔
بیان حلفی از جانب شوهر مسمی -------:
میں مسمی--------بلا کسی جبر و اکراہ ، باہوش و سلامتئ حواس خمسہ اقرار کرتا ہوں اور مانتا ہوں کہ پہلے میں بیوی کی جانب سے دیے گئے بیان حلفی کا منکر تھا، لیکن اللہ تعالی سے ڈر کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ بیوی-------نے جو بیان دیا وہ واقع کے مطابق اور درست ہے، میں بھی اس سے اتفاق کرتا ہوں۔
میاں بیوی کے بیان اور اقرار کے مطابق مسماۃ ......... پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين. كان اسمها طالقا أو حرة فناداها إن نوى الطلاق أو العتاق وقعا وإلا لا. (3/ 293)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق اھ (3/ 293)۔
وفيه ايضاً: حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت اھ (3/ 299)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0