محترم جناب مفتی صاحب ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں الفلاح بینک کا کریڈٹ کارڈز استعمال کرتا ہوں، اسی بینک میں، میں نے کھاتہ بھی کھولا ہوا ہے، کاروباری مقاصد کے لئے اور کریڈٹ کارڈز کی مدت گزرنے سے قبل بل بھی ادا کرتا ہوں اور کبھی پیسے نہیں نکلواتا ، بلکہ خریداری کے لئے استعمال کرتا ہوں، اس طرح کریڈٹ کارڈز کا استعمال جائز ہے کہ نہیں؟ میں میزان بینک کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہوں اور سیونگ اکاؤنٹ بھی چلانا چاہتا ہوں تو آیا اس کے منافع حلال ہے میرے لئے؟
کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اشیاء کی خرید وفروخت مذکور دو شرطوں کیساتھ جائز ہے (1) کارڈز کے حصول سے قبل اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر اس میں مطلوبہ رقم جمع کردی جائے (2) اگر یہ ممکن نہ ہو تو ادارے کی طرف سے جاری کردہ بلوں کی قیمت مقرّرہ مدت کے اندر اندر ادا کردیجائے، پس صورتِ مسئولہ میں بھی اگر چہ مذکور طریقہ سے کارڈز استعمال کرنا جائز ہے، لیکن ایک سودی بینک میں کھاتہ کھلوانے سے احتراز لازم ہے۔
واضح ہو کہ موجودہ دور میں میزان بینک اسلامی بینک کے طور پر قابل قدر اور جدید فقہی مسائل کے ماہر علماء کی سرپرستی میں کام کررہا ہے، ہماری معلومات کے مطابق مذکور بینک میں بینکنگ کا جو نظام رائج ہے، وہ مرابحہ ، مشارکہ ، مضاربہ اور سلم جیسے شرعی اصولوں پر مبنی ہے جوکہ دوسرے مرّوجہ بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعتِ مطہّرہ کے بھی قریب تر ہے ، لہذا مذکور بینک اور اس کی اسکیموں میں رقم جمع کرانے اور اس پر نفع لینے کی گنجائش ہے ، پھر چونکہ یہ ایک پرائیوٹ ادارہ ہے، اس کے اصول وضوابط کے بدلنے کا بھی خطرہ رہتا ہے اس لئے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے سے قبل اس کی پوری نوعیت معلوم کرنے کے بعد اس کے موافق حکمِ شرعی معلوم کرلیا جائے تو یہ زیادہ بہتر واحوط ہے۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0