کیا سٹیٹ بینک کے” اسٹاکس ڈپارٹمنٹ“ میں کام کرنا جائز ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ارسال کریں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، جس میں شماریات والوں کو لیا جاتا ہے، وہ لوگ مختلف قسم کے معلومات جو نمبر کی شکل میں ہوتے ہیں اور جو کہ مختلف بینک سے آتے ہیں، اسے انا لائز کرتے ہیں کہ کس بینک کی کار گردگی اچھی جارہی ہے اور کس بینک کی خراب سارے بینک اسٹیٹ بینک کی زیر نگرانی چلتے ہیں، انہیں اسٹیٹ بینک کی پالیسیز کو ماننا ہی پڑتا ہے یہاں تک کہ میزان بینک بھی اسٹیٹ بینک سے ملحق ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت طرح کی ریسرچ کرتے ہیں جن میں بینک کیساتھ جنرل ایکنامکس ایشوز بھی آتے ہیں، ملازم اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کے ہوتے ہیں، تنخواہ بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہی دیتا ہے، براہ ِمہربانی بتائیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور میزان بینک جو سنا ہے کہ مفتی تقی عثمانی کی زیر نگرانی چل رہا ہے کیا یہ سود سے پاک ہے؟
یاد رہے کہ اگر سائل کو معلوم ہے کہ میرے اس اسٹاکس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے سے سود کی کسی درجہ میں بھی معاونت ہورہی ہے، تو یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء ( مسلم شریف2/27) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والا اور سود دینے والے اور سودی تحریر لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں، اورا یسی ملازمت سے آنے والی آمدنی بھی حرام ہے، لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کاتعلق براہِ راست سودی معلات سے نہیں ،نہ اس کا تعلق سود لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، تو ایسی ملازمت اور اس سے ملنے والی آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ ایسی ملازمت بھی جائز نہیں جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، کیونکہ ایسے ملازمین کا اگر چہ سودی معاملات میں عمل دخل نہیں لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے، جو بینک میں ہوتی ہیں، اور اس میں سود بھی شامل ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی کا تعلق نہیں یہ جائز ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان رقم کی مجموعہ سے دی جاتی ہے، جو بینک میں ہوتی ہیں لیکن موجودہ رقوم ساری کی ساری سود کی نہیں ہوتیں، بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہیں، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے جو رقم قرض کے طور پر لی ہوئی ہے، اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں، جو بینک کے مالکان کا اصل سرمایہ ہے، اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطور سود کے حاصل کی گئی ہیں، لیکن بینک میں جمع شدہ ان رقوم میں اکثر رقم حلال ہوتی ہے، لہذا اگر اس مجموعہ مخلوط رقم سے ایسے ملازم کی تنخواہ دیجاتی ہے، جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ، تو اس کے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔
(3)میزان بینک اگر چہ دوسرے مروّج بینکوں سے بہتر اور شریعتِ مطہّرہ کے قریب تر ہے مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو بجا لانے میں غلطی کرتے ہیں، جو دراصل ضابطے کی خرابی اور غلطی نہیں بلکہ متعلقہ فردکی ناسمجھی اور غلطی ہوتی ہے، جسکی بناء پر انجام دیا جانے والا معاملہ بھی ناجائز ہوجاتا ہے، اس لئے اس کو ربوٰ سے پاک قرار دینے میں مشکل پیدا ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی ملازم اصولِ شرعیہ سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کسٹمر کے ساتھ بھی جائز معاملہ کرے تو یہ بلاشبہ شرعاً بھی جائز کہلائے گا۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0