میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان عورت ہوں جو بیرونِ ملک رہ رہی ہے۔ میری شادی ایک مسلمان مرد سے تقریباً 15 سال پہلے ہوئی تھی، اور میرے اس سے بچے بھی ہیں۔
تقریباً 5 سال پہلے، یعنی 2019 کے آس پاس، میرے شوہر نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی (بپتسمہ کے ذریعے)۔ تو کیا اس کے دین تبدیل کرنے سے ہمارا نکاح خود بخود ختم ہو گیا تھا؟ یا کیا شرعی طور پر اسے مجھے طلاق دینی ضروری تھی؟
اس کے مرتد (اسلام چھوڑنے) ہونے کے بعد بھی میں اس کے ساتھ تقریباً 2 یا 3 سال تک بیوی کی حیثیت سے رہی اور ہمارا جسمانی تعلق بھی قائم رہا — تو کیا میرے لیے اس حالت میں اس کے ساتھ رہنا اور جسمانی تعلق رکھنا شرعی طور پر زنا شمار ہوتا ہے؟
اگر واقعی یہ زنا تھا، تو کیا اسلام میں میرے لیے کوئی کفارہ (توبہ یا کوئی عمل) ہے؟ یا کیا میرے لیے کوئی شرعی سزا مقرر ہے؟
میں اس معاملے میں بہت الجھن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ مجھے شرعی طور پر کیا کرنا چاہیے؟
واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر اگر واقعۃ عیسائی ہوچکا تھا تو اس کے عیسائی ہوتے ہی وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا تھا ، جس بناء پر اس کے ساتھ سائلہ کا نکاح بھی فسخ ہوچکا تھا، لہذا اس کے مرتد ہوجانے کے باوجود سائلہ کا اس کے ساتھ بیوی کی حیثیث سے رہنا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعا ناجائز اور گناہ کبیرہ تھا جس پر اللہ تعالی کے حضور بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے امید ہے اللہ تبارک و تعالی درگزر فرمائیں گے ، اور آئندہ ایسے مرتد شحص سے فی الفور علیحدگی بھی لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار : ( و ارتداد احدھما ) ای الزوجین ( فسخ ) فلا ینقض عددا ( عاجل ) اھ
و فی رد المختار تحت قولہ ( بلا قضاء ) ای بلا توقف علی قضاء القاضی ( قولہ و علیہ نفقۃ العدۃ ) ای لو مدخولا بھا اذ غیرھا لا عدۃ علیھا و افاد وجوب العدۃ سواء ارتد او ارتدت بالحیض او بالاشھر لو صغیرۃ او آیسۃ او بوضع الحمل اھ( باب نکاح الکافر ، ج : 3 ، ص : 193 ، ط : سعید )
و فی الھندیہ : ارتداد احد الزوجین عن الاسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق فی الحال قبل الدخول و بعدہ ( الباب العاشر فی نکاح الکفار ، ج : 1 ، ص : 339 ، ط : ماجدیہ )