کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کال سینٹر کی نوکریاں حلال ہیں یا حرام، جن میں فائنل ایکسپینس پالیسی امریکی شہریوں کو پیش کی جاتی ہے،
اور ایجنٹ کو کمیشن کی بنیاد پر تنخواہ دی جاتی ہے۔
براہِ کرم وضاحت کریں۔
جزاک اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ فائنل ایکسپینس پالیسی سے مراد اگر انشورنس کی وہ قسم ہو،جس میں پالیسی ہولڈر کے تجہیز و تکفین کے اخراجات کےلئے رقم جمع کرائی جاتی ہو،تو یہ بھی انشورنس کی ایک قسم ہے، جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات اور غیر شرعی امور کی انجام دہی سے ہوتاہے ،لہذا ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں بنیادی ذمہ داری انشورنس پالیسی مارکیٹنگ کرنا ہو،شرعا جائز نہیں، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی استعمال میں لانا درست نہ ہوگی،لہذا ایسی ملازمت سے احتراز لازم ہے۔
کماقال اللہ تعالی:وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ."(المائدة:آیۃ:2)
وفی صحیح المسلم : عن جابر قال لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدہ و قال ھم سواء (ج:2،ص:27،ط:قدیمی کتب خانہ)
و فی تکملۃ فتح الملھم : قولہ "و کاتبہ " لان کتابۃالربا اعانۃ علیہ و من ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لایجوز فان کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا کالکتابۃ او الحساب فذالک حرام لوجھین : الاول : اعانۃ علی المعصیۃ و الثانی : اخذالاجرۃ من المال الحرام فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا (باب أخذالحلال وترك الشبهات،ج:1،ص:619،ط:دارالعلوم کراتشی)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0