کیا ”کوآپریٹو سوسائٹی“ میں نوکری کرنا جائز ہے؟
نوٹ: سائل کاکام اس سسٹم میں سود پر دئے گئے قرضوں کی دیکھ بال سے متعلق ہے۔
واضح ہوکہ احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ نے واضح طور پر سود کے متعلق چند لوگوں پر لعنت (رحمت سے دوری ) فرمائی ہے جن میں سے سود کا لکھنے والا بھی شامل ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی ملازمت اگر محض سودی معاملات کی حد تک محدود ہو اور کسی قسم کا جائز اور حلال کام اس کے سپرد نہ ہو توچونکہ براہ راست سود کی لکھت اور حساب کتاب کے ساتھ منسلک رہنے پر احادیث طیبہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اس لئے سائل کامذکور نوکری کرناشرعا جائز نہیں اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام ہوگی، اس لئےسائل پر لازم ہے کہ جلد از جلد کوئی حلال ذریعۂ معاش تلاش کرکے اس نوکری کو ترک کردے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: احل اللہ البیع وحرم الربوٰا الخ ( البقرۃ 275)
وفی الصحیح لمسلم: حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء الخ (کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ، ح4092،ص 860،ط: مکتبۃ البشریٰ)
وفی تکملۃ فتح الملھم: حدثنا محمد بن الصباح (الی قولہ) عن جار رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا، وموکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ، وقال ھم سوآءالخ
قال العلامۃ العثمانی حفظہ اللہ تحت( قولہ: وکاتبہ)لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فان کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا، کالکتابۃ او الحساب فذالک حرام مستجلب بالربا، واما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال الخ( کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ الخ،ج 1، ص619،ط: دار العلوم کراچی)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0