میری والدہ کا انتقال تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ایک بھائی، ایک بہن اور ایک بیٹا اسی گھر میں رہتے رہے جہاں والدہ رہتی تھیں۔ ہم سات بہن بھائی ہیں۔ وراثت کی تقسیم تقریباً دو سال بعد ہوئی کیونکہ ایک بہن والدہ کے انتقال کے بعد سعودی عرب چلی گئی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ بھائی، بہن اور بیٹا جو والدہ کے انتقال کے بعد ڈیڑھ سال تک اسی گھر میں رہتے رہے، ان پر کیا اس مدت کا گھر کا کرایہ لازم آئے گا؟ کیونکہ وراثت اس وقت تک تقسیم نہیں ہوئی تھی اور وہ لوگ اس گھر سے استفادہ (فائدہ) حاصل کر رہے تھے، جیسا کہ روزمرہ کی ضروریات، رہائش وغیرہ۔کیا ان پر اس عرصے کا کرایہ بنتا ہے یا نہیں؟
نوٹ: وہ لوگ والدہ کی زندگی میں بھی اسی گھر میں رہتے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کے ساتھ شریک دیگر ورثاء نے مذکور بہن بھائی سے متروکہ مکان میں رہائش اختیار کرنے پر ابتداءً کرایہ کے متعلق کوئی بات یا معاہدہ نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں متروکہ مکان میں رہائش اختیار کرنے والے بہن بھائیوں پر گزشتہ ڈیڑھ سال کا کرایہ ادا کرنا یا دیگر ورثاء کا کرایہ کا مطالبہ کرنا بھی درست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
وفی الدر: لو واحد من الشريكين سكن في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه بأجرة السكنى ولا المطالبه بأنه يسكن من الأول لكنه إن كان في المستقبل يطلب أن يهايئ الشريكا يجاب فافهم ودع التشكيكا الخ۔ ( فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج: 4، ص: 337، ط: سعید)۔
وفی الدر: لو واحد من الشريكين سكن في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه بأجرة السكنى ولا المطالبه بأنه يسكن من الأول لكنه إن كان في المستقبل يطلب أن يهايئ الشريكا يجاب فافهم ودع التشكيكا الخ۔ ( فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج: 4، ص: 337، ط: سعید)۔
وفی العقود الدریۃ: لو أحد من الشريكين سكن في الدار مدة مضت من الزمن فليس للشريك أن يطالبه بأجرة السكنى ولا المطالبةبأنه يسكن مثل الأول لكنه إن كان في المستقبل يطلب أن يهايئ الشريكا يجاب فافهم ودع التشكيكا الخ۔(کتاب الشرکۃ، ج: 1، ص: 91، ط: مکتبہ حقانیۃ)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0