قادیانی

قادیانی کی توبہ قبول کرنے کے متعلق حکم

فتوی نمبر :
85962
| تاریخ :
2025-09-08
ادیان و فرق / جماعت و فرق / قادیانی

قادیانی کی توبہ قبول کرنے کے متعلق حکم

قادیانیوں کے احکام کیا ہیں؟ یعنی اسلامی عدالت میں ان کا توبہ قبول کیا جائے گا یا نہیں؟ اور ان کے احکام یعنی توبہ کی قبولیت میں داعی اور غیر داعی کے درمیان کوئی فرق کیا جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قادیانی اگرچہ باجماعِ امت دائرۂ اسلام سے خارج ، کافر و زندیق ہیں ، ان سے شادی وغیرہ جیسے تعلقات اختیار کرنا یا میل جول وغیرہ رکھنا بھی شرعاً ناجائز و حرام ،مضر اور دین کیلئے باعث ِتباہی ہے ، لیکن اگر کوئی قادیانی(چاہے داعی ہو یا غیر داعی ) اپنے باطل عقائد سے توبہ تائب ہوکر بصدقِ دل جملہ عقائدِاسلام پر ایمان لاتے ہوئےدائرۂ اسلام میں داخل ہوجائےاور سابقہ جملہ کفریہ عقائد سے براءت کا اظہار رکرتے ہوئے قادیانیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر و زندیق قرار دے،تو ایسےشخص کی توبہ شرعاً بھی قبول ہوگی اور معزز عدالت بھی پورے اطمینان اور تسلی کے بعد اسے مسلمان قرار دے سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌التائب ‌من ‌الذنب ‌كمن لا ذنب له» ". رواه ابن ماجه، والبيهقي في: " شعب الإيمان " إلخ۔
قال العلامۃ تحت: (قولہﷺالتائب من الذنب) أي: توبة صحيحة (كمن لا ذنب له) أي: في عدم المؤاخذة، بل قد يزيد عليه بأن ذنوب التائب تبدل حسنات، ويؤيد هذا ما جاء عن رابعة رضي الله عنها أنها كانت تفخر على أهل عصرها كالسفيانين والفضيل، وتقول: إن ذنوبي بلغت من الكثرة ما لم تبلغه طاعاتكم، فتوبتي منها بدلت حسنات فصرت أكثر حسنات منكم إلخ(باب الاستغفار والتوبۃ، ج: 4، ص: 1637، ط: دار الفکر بیروت)۔
وفی الدر المختار: فإن أسلم) فيها (وإلا قتل) لحديث «من بدل دينه فاقتلوه» (وإسلامه أن يتبرأ عن الأديان) سوى الإسلام (أو عما انتقل إليه) بعد نطقه بالشهادتين، وتمامه في الفتح؛ ولو أتى بهما على وجه العادة لم ينفعه ما لم يتبرأ بزازية إلخ(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 226، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وكل ‌مسلم ‌ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر إلخ(کتاب الجھاد، باب المرتد،ج: 4، ص: 231، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: قوله وقد صرح في النتف إلخ) وقد علم أن المرتد تقبل توبته كما نقله هنا عن النتف وغيره، فإذا كان هذا في ساب الرسول صلى الله عليه وسلم ففي ساب الشيخين أو أحدهما بالأولى إلخ(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 234، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85962کی تصدیق کریں
0     265
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قادیانیوں کو مرتد اور واجب القتل قرار نہ دینے کی کیا وجہ ہے؟

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • قادیانیوں کو ’’احمدی‘‘ کہنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • قادیانیوں سے دوستانہ تعلقات اور ’’شیزان کمپنی‘‘ کی پروڈکٹ استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • صرف قادیانی خاندان سے ہونے کی وجہ سے کسی کو قادیانی کہنا

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • قادیانی کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی مختلف صورتوں کا حکم

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • قادیانی شخص کو اپنے ساتھ جماعت کی نماز میں شریک ہونے دینا

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • رد قادیانیت سب سے پہلے کس نے کیا؟

    یونیکوڈ   قادیانی 0
  • قادیانی کی توبہ قبول کرنے کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   قادیانی 0
Related Topics متعلقه موضوعات