میں کلینک میں کام کر رہا ہوں بحیثیت معالج کے ، یہ کلینک میرے ایک دوست کی ہے جو فقط اس کے انتظامی امور سنبھالتا ہے، ہم مریضوں کو گھر پر جا کر دیکھتے ہیں میں اس کلینک کا ملازم نہیں ہوں، مگر صرف گھر پر جاکر مریضوں کو دیکھتا ہوں، میں اس بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میرے دوست کے لئے جائز ہے کہ وہ پیسوں کو فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرے، جبکہ وہ کہتا ہے کہ میں آپ کو مریض دیتا ہوں اور آپ علاج کرتے ہیں میرے کلینک سے جیسے کہ پہلے بتایا ہے کہ یہ کلینک اس کی ملکیت میں نہیں ہے وہ ڈاکٹر اور منیجر ضرور ہے اور میں کچھ پیسے حاصل کرنے کے لئے آپ کو یہ مواقع فراہم کر رہا ہوں، سوال یہ ہے کہ وہ شریعت کی رو سے کتنے پیسے لے سکتا ہے؟ اور جو پیسے لیتا ہے کیا وہ اپنے آپ کے لئے استعمال کر سکتا ہے؟ ( جبکہ وہ خود بھی تنخواہ لیتا ہے ) یا کلینک کیلیے؟ میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں کلینک سے کچھ نہیں لیتا یعنی دوائیاں یا آلات و غیرہ میں صرف مریض کا فون نمبر لیتا ہوں۔
اگر پہلے سے طے شدہ ہو کہ ہم آپ کو مریض فراہم کرنے کی صورت میں فی مریض اتنی رقم یا اتنی فیصد وصول کریں گے تو اس طرح ان کا کمیشن لینا شرعاً بھی درست ہے اور سائل کی اپنے دوست کے ساتھ جس ترتیب سے بات طے ہو گئی ہو وہ اس طرح اس کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔
كما في الدر المختار: و في الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له. (6/ 42)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (6/ 42)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0