جس طرح سود حرام ہے، اس کی لکھت پڑھت کرنا، معاملہ میں گواہ بننا وغیرہ سب حرام ہے، تو کیا مسئلہ بتائیں گے علما اکرام کہ شراب بھی اسی طرح حرام یے، یعنی شراب کی لکھت پڑھت وغیرہ اور اسپیشلی یہ مسئلہ کہ بائیو ٹیکنالوجی کے کچھ کورسز میں شراب بنانے کا عمل سکھایا جاتا ہے، تو طلبا کیا کریں؟ اور پڑھانے والے اساتذہ کیا کریں۔ کیا صرف شراب پینا حرام ہے یا اس کا بنانا اور شراب خانے میں نوکری وغیرہ کرنا، یا شراب کا کاروبار، ان سب معاملات کے متعلق رہنمائی فرما دیں، جزاکم اللہ خیرا
واضح ہوکہ شراب کا معاملہ بھی صرف پینے تک محدود نہیں،بلکہ اس سے جڑی ہر چیز شریعت میں ناجائز وحرام ہے،جس طرح شراب پینا حرام ہے،اسی طرح اس کابنانا،بیچنا،خریدنا اور اس پر کسی قسم کی معاونت کرنا حتی کہ اس کا کاروبار کرنا یا شراب خانے میں شراب پلانے کی نوکری کرنا سب حرام ہیں، جہاں تک بائیوٹیکنالوجی یا سائنس کے کسی کورس میں شراب بنانے کا عمل سیکھنے یا سکھانے کا تعلق ہے،تو اگر کسی تعلیمی کورس میں براہِ راست شراب تیار کرنی پڑتی ہو،یا طلبہ کو شراب تخلیق کرنے کا عمل سکھایا جاتاہوتو ایسے عملی پریکٹیکل کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہےطلبہ پر لازم ہےکہ وہ استاد یا انتظامیہ کو متبادل فراہم کرنے کی درخواست کریں۔اگر ادارہ اس پر مجبور کرے تو اس حصۂ کورس سے اجتناب کریں یا ایسا شعبہ اختیار کریں جس میں حرام چیز کی تیاری شامل نہ ہو۔اساتذہ پر لازم ہے کہ وہ طلبہ کو نظریاتی معلومات بتانے تک اکتفاء کریں،براہِ راست شراب بنانے کی عملی تربیت دینے سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (سورۃ المائدۃ ، آیت نمبر 91،)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ﴿وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ﴾ نهى عن معاونة غيرنا على معاصى اللّه تعالى اھ الخ (ج: 3، ص: 296، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وفی سنن أبی داؤد: عن ابن عمر رضی اللہ عنہ یقول قال رسول اللہ ﷺ لعن اللہ الخمر وشاربھا وساقیھا وبائعھا ومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ إلیہ الخ (باب العصیر للخمر، ج: 2، ص: 1378، ط: البشرٰی)۔
وفی المبسوط للسرخسی: ولا یحل للمسلم بیع الخمر ولا أکل ثمنھا بلغنا ذلک عن رسول اللہ ﷺ وفیہ حدیثان أحدھما قولہ ﷺ لعن اللہ فی الخمر عشرۃ وذکر فی الجملۃ بائعھا والثانی قولہ ﷺ ان الذی حرم شربھا حرم بیعھا وأکل ثمنھا وفی حدیث آخر قال ﷺ لعن اللہ الیھود حرمت علیھم الشحوم فجعلوھا وباعوھا وأکلوا ثمنھا وان اللہ تعالیٰ إذا حرم شیئا حرم بیعہ وأکل ثمنہ وبھذہ الآثار تبین ان الخمر لیست بمال متقوم فی حق المسلم فلا یجوز بیعہ إیاھا الخ (باب بیوع أھل الذمۃ، ج: 13، ص: 137، ط:دار المعرفۃ۔بیروت)۔
وفی الشامیۃ: وبطل بیع مال غیر متقوم کخمر وخنزیر ومیتۃ لم تمت حتف أنفھا بالثمن الخ (باب الیبع الفاسد، ج: 5، ص: 73، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ لصحۃ بیعہ) أی بیع الکافر الخمر لأنھا مال متقوم فی حقہ فملک الثمن فیحل الأخذ منہ بخلاف المسلم لعدم تقومھا فی حقہ فبقی الثمن علی ملک المشتری الخ (کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع،ج: 6، ص: 385، ط: ایچ ایم سعید)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0