سورۃ المؤمنون (23:3) میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفت بیان کی ہے:
“اور وہ لوگ جو لغو باتوں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔”
میرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں “لغو سے منہ موڑنے” سے مراد حقیقت میں کیا ہے؟ مثال کے طور پر:
• اگر میں کسی مجلس میں بیٹھا ہوں اور وہاں لغو بات سننے میں آجائے، تو کیا اس آیت کے مطابق مجھے فوراً وہاں سے اٹھ جانا چاہیے، یا صرف اس میں شریک نہ ہونا کافی ہے؟
• یا پھر یہ ممانعت صرف اس وقت ہے جب کوئی شخص خود جان بوجھ کر ایسی باتیں تلاش کرے اور پوری توجہ سے انہیں سنے؟
• اسی طرح اگر میں کسی قسم کی تفریحی چیز (جیسے پڑھنا، دیکھنا یا سننا) استعمال کر رہا ہوں، اور اس میں کچھ حصہ لغو باتوں پر مشتمل ہو جبکہ باقی مواد عام یا مباح ہو، تو کیا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ محض اس لغو کے سامنے آ جانا بھی قابلِ ملامت ہے؟ یا پھر صرف اس صورت میں قابلِ ملامت ہے جب انسان خود اسے تلاش کرے اور اس پر توجہ مرکوز کرے؟
میں سمجھنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ آیت محض غیر ارادی طور پر سامنے آنے والی چیز کے بارے میں ہے یا جان بوجھ کر اس میں مشغول ہونے کے بارے میں۔
جزاکم اللہ خیراً
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ﴾میں “لغو” سے مراد ہر وہ بات، عمل یا مشغولیت ہے جو بے فائدہ، گناہ پر مشتمل، یا دین و دنیا کے اعتبار سے غیر مفید ہو۔ اور “اعراض” کا مطلب یہ ہے کہ مؤمن اس میں دل لگا کر مشغول نہیں ہوتا، نہ اسے پسند کرتا ہے اور نہ قصداً اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر کسی مجلس میں اتفاقاً لغو یا نامناسب بات شروع ہوجائے تو محض اس کا کان میں پڑ جانا گناہ نہیں، بشرطیکہ آدمی اس میں دلچسپی نہ لے اور نہ اس کی تائید کرے۔ البتہ اگر مجلس مکمل طور پر لغو، گناہ یا دین کی بے حرمتی پر مشتمل ہو، اور انسان کے لیے وہاں سے اٹھ جانا ممکن ہو، تو وہاں سے الگ ہوجانا بہتر بلکہ بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے۔
اسی طرح کسی مباح تفریح یا معلوماتی چیز میں اگر ضمنی طور پر کچھ لغو باتیں آجائیں، اور انسان نہ انہیں تلاش کرے، نہ ان پر دل جما کر توجہ دے، تو محض غیر ارادی طور پراس طرح کی بات سامنے آجانا اس آیت کے خلاف نہیں۔
پس مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے دل، وقت اور توجہ کو حتی الامکان مفید، پاکیزہ اور بامقصد امور میں صرف کرے، اور لغویات سے بے رغبتی اختیار کرے۔
کمافی تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير :«الصفة الثالثة: قوله تعالى: والذين هم عن اللغو معرضون وفي اللغو أقوال: أحدها: أنه يدخل فيه كل ما كان حراما أو مكروها أو كان مباحا، ولكن لا يكون بالمرء إليه ضرورة وحاجة وثانيها: أنه عبارة عن كل ما كان حراما فقط، وهذا التفسير أخص من الأول وثالثها: أنه عبارة عن المعصية في القول والكلام خاصة، وهذا أخص من الثاني ورابعها: أنه المباح الذي لا حاجة إليه، واحتج هذا القائل بقوله تعالى: لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم [المائدة: 89] فكيف يحمل ذلك على المعاصي التي لا بد فيها من المؤاخذة، واحتج الأولون بأن اللغو إنما سمي لغوا بما أنه يلغى وكل ما يقتضي الدين إلغاءه كان أولى باسم اللغو، فوجب أن يكون كل حرام لغوا، ثم اللغو قد يكون كفرا لقوله: لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه [فصلت: 26] وقد يكون كذبا لقوله: لا تسمع فيها لاغية [الغاشية: 11] وقوله: لا يسمعون فيها لغوا ولا تأثيما [الواقعة:25] ثم إنه سبحانه وتعالى مدحهم بأنهم يعرضون عن هذا اللغو والإعراض عنه، هو بأن لا يفعله ولا يرضى به ولا يخالط من يأتيه، وعلى هذا الوجه قال تعالى: وإذا مروا باللغو مروا كراما [الفرقان: 72] » (23/ 261)
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0