مولانا صاحب میں ایک آفس میں کام کرتا ہوں ، آفس کے انٹرنیٹ سے آفس کے کام کرتا ہوں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آفس کے انٹرنیٹ کا میں ذاتی استعمال کر سکتا ہوں ، کیا اگر میں ذاتی استعمال کرتا ہوں تو یہ جائز ہے یا ناجائز ؟ میں انٹرنیٹ سے مفت SMS بھیجتا ہوں ، اپنی ای میل چیک کرتا ہوں اور دوسرے کام کرتا ہوں ۔ شکریہ!
اگر ادارے کے متعلقہ مجاز ذمہ داروں کی طرف سے اس طرح کے ذاتی استعمال پر ممانعت نہ ہو تو اس صورت میں سائل کا مذکور استعمال کی گنجائش ہے، ورنہ اپنی کی ضرورت بیان کر کے باقاعدہ صریح اجازت لینا لازم ہے ۔
ففي مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه. (5/ 1974)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0