السلام علیکم مفتی صاحب اگر کسی عورت کو تین طلاق ہو جائے تو کیا وہ اپنے بچوں کی خاطر حلالہ کر کے دوبارہ اپنے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
واضح ہو کہ أحادیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور کرانے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے، اس لعنت کے اطلاق میں وہ مرد اور عورت داخل ہے جو اس نیت سے حلالہ کرتے ہیں تاکہ نکاح اور ہمبستری کے بعد وہ طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کر لیں تاہم اگر کوئی مرد وعورت بغیر حلالہ اور مستقبل میں طلاق کی نیت سے نکاح کر لیتے ہیں، اور بعد میں اتفاقاً ان کے درمیان طلاق یا موت کی وجہ سے جدائی ہو جاتی ہے جس کے بعد عورت اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے تو ایسا کرنا شرعاً بلاشبہ جائز ہے۔
كما في الهداية شرح بدايةالمبتدي: وإذا تزوجها بشرط التحليل: فالنكاح مكروه؛ لقوله عليه السلام: "لعن الله المحلِّل والمحلَّل له"، وهذا هو محمله.(ج:2،فصل فيما تحل به المطلقة،ص:644،مكتبةالبشرى)
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ..الخ .(ج:1،فصل فيما تحل به المطلقةوما يتصل به،ص:473،مط: ماجدية)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0