میں کرایہ دار ہوں دکان کا کرایہ 6,500 روپے تھا،میں نے 60,000 روپے ایڈوانس مالک کو دیے۔ مالک نے تحریری نوٹس دیا کہ دکان 3 ماہ میں خالی کریں۔ابھی 3 ماہ پورے نہیں ہوئے تھے کہ مالک نے کہا:”میرے پاس ایڈوانس واپس کرنے کے پیسے نہیں، تم اتنے مہینے رہ لو جتنے مہینے کا کرایہ ایڈوانس کے برابر ہو جائے“۔ بعد میں مالک نے کرایہ بڑھا کر 10,000 روپے ماہانہ کر دیا۔
جی سوال یہ ہے کہ شرعاً میں کتنا کرایہ ادا کرنے کا پابند ہوں؟ میں دس ہزار کرایہ پر رضامند نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب فریقین (سائل اور مالک دوکان ) کے مابین تین ماہ کے اندردکان خالی کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا، تو تین ماہ گزرجانے پر فریقین کے درمیان سابقہ عقد ختم ہوجائیگا، اور حسب معاہدہ مالک دوکان کے ذمہ ایڈوانس کی مد میں وصول کردہ رقم کی واپسی لازم ہوگی، تاہم ایڈوانس کی رقم مالک دوکان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سےآئندہ کچھ عرصہ کے لیے جوکرایہ داری کا معاہدہ ہوگاوہ عقد جدید شمار ہوگا، اوار فریقین کو باہمی رضامندی سے کرایہ طے کرنے کا اختیار ہوگا، اس لیے سائل اگر بعد میں ہونے والے عقد اجارہ میں اس اضافی رقم دینے پر راضی نہ ہو تو مالک دوکان اسے اس عقد کو جاری رکھنے پر مجبور نہیں کرسکتا، اس لئے سائل دس ہزار کرایہ ہونے پر راضی نہ ہو تو وہ مالک سے اپنے ایڈوانس رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے، اور اس کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی الھدایۃ: قال: "ومن استأجر دارا كل شهر بدرهم فالعقد صحيح في شهر واحد فاسد في بقية الشهور، إلا أن يسمي جملة شهور معلومة"؛ لأن الأصل أن كلمة كل إذا دخلت فيما لا نهاية له تنصرف إلى الواحد لتعذر العمل بالعموم فكان الشهر الواحد معلوما فصح العقد فيه، وإذا تم كان لكل واحد منهما أن ينقض الإجارة لانتهاء العقد الصحيح "ولو سمى جملة شهور معلومة جاز"؛ لأن المدة صارت معلومة (إلی قولہ) قال: "وإن استأجر دارا سنة بعشرة دراهم جاز وإن لم يبين قسط كل شهر من الأجرة"؛ لأن المدة معلومة بدون التقسيم فصار كإجارة شهر واحد فإنه جائز وإن لم يبين قسط كل يوم الخ۔ ( باب الإجارۃ الفاسدۃ، ج: 3، ص: 304
وفی شرح المجلۃ: اکتری دارً سنۃ بألف فلما انقضت قال إن فرغتھا الیوم والا فھی علیک کل شھر بألف والمستأجر مقر لہ بالدار فإنا نجعل فی قدر مابنقل متاعہ بأجر المثل وبعد ذلک بما قال المالک الخ۔ ( المادۃ 438،الباب الثانی فی بیان المستقبل المتعلقۃ بالأجرۃ ، ج: 2، ص: 505، ط: مکتبہ حقانیۃ)۔
و فی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: والخلو عبارة عن حق القرار في دار أو حانوت، فربما يؤجر صاحب البناء بناءه لمدة طويلة، فيأخذ من المستأجر مبلغا مقطوعا عند عقد الإجارة زيادة على أجرته الشهرية أو السنوية، وبدفع هذا المبلغ يستحق المستأجر أن يبقى على إجارته مدة طويلة. ثم ربما ينقل المستأجر حقه هذا إلى غيره، فيأخذ منه مبلغا يستحق به عقد الإجارة مع صاحب البناء، الخ۔ (البحث الثالث: فی بیع الحقوق المجردۃ، ج: 1، ص: 103، ط: مکتبہ دارالعلوم کراتشی)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0