جناب میرے پاس کتاب "تقویۃ الایمان" ہے اس میں لکھا ہے کہ " نبی کریم ﷺ کی اس طرح عزت کرو، جس طرح بڑے بھائی کی کی جاتی ہے" ،آپ کیا کہتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں مذکور کتاب مولانا شاہ اسماعیل شھید رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف کردہ ہے اور مذکور اشکال اہل باطل نے محض تعصب کی بناءپر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہےکہ حضرت شہیدرحمۃ اللہ علیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اور مرتبہ بڑے بھائی جتنا تسلیم کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جتنی تعظیم و تکریم بڑے بھائی کی کرنی چا ہیئے اتنی ہی آپ کی کرنی چاہئیے (معاذ اللہ ) حالانکہ یہ نظر یہ اسلام اور اہل اسلام کے معتقدات کے بالکل خلاف ہے اور اسمیں آپ کی توہین ہے اور آپ کی ادنی سی توہین بھی کفر ہے اسلئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شہید کی اصل اور پوری عبارت پیش کیجائے تاکہ حقیقت حال بالکل واضح اور بے نقاب ہو جائے حضرت شہیدرحمۃاللہ ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں جس کے عربی الفاظ ہم بنظر اختصار چھوڑتے ہیں اور حضرت شہید ہی کا ترجمہ اور اسکی تشریح عرض کرتے ہیں۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں، ترجمہ : مشکوۃ کے باب عشرۃ النساء میں لکھا ہے کہ امام احمد نے ذکر کیا کہ بی بی عائشہ نے نقل کیا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مهاجرین و انصار میں بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ آیا پھر اس نے سجدہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ کو، سو ان کے اصحاب کہنے لگے اپنے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تم کو سجدہ کرتے ہیں جانور اور درخت، سو ہم کو ضرور چاہیئے کہ تم کو سجدہ کریں سو فر مایا کہ بندگی کرو اپنے رب کی اور تعظیم کرو اپنے بھائی کی، اصل الفاظ حدیث یہ ہیں" اعبد وا ر بکم وا کرمو ا خاکم ، اس عبارت میں حضرت شہید نے آنحضرت ﷺ اس ارشاد گرامی کا ترجمہ کیا ہے "واکرمو اخاکم " کہ تم اپنے بھائی کی یعنی میری تعظیم کرو ،اور پھر فائدہ لکھ کر بھائی کے لفظ کو مجمل نہیں چھوڑا بلکہ اسمیں اپنی دانست اور عقیدت کیمطابق تعظیم اور احترام کا پہلو ملحوظ رکھا ہے، اور یہ بیان کیا ہے کہ وہ بڑے بھائی ہیں اور ہم چھوٹے ہیں انکی تعظیم و تکریم ہم پر لازم ہے کیونکہ انکی فرمانبرداری کا ہمیں حکم ہے، لیکن نہ تو انکی بندگی درست ہے کیونکہ وہ مالک نہیں اور نہ آپکی وہ تعظیم صحیح ہے جو خدا تعالٰی کی سی تعظیم ہے ، غور فرمائیے کہ اس عبارت میں کونسی تو ہین اور بےادبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معاذ اللہ تعالٰی حضرت شہید نے کی ہے۔شرعی اعتبار سے تو ان میں سے کوئی امر بھی توہین کا موجب نہیں، اس لئے اصل عبارت کو سوچے سمجھے بغیر حکم لگانے اور حضرت شہید کے خلاف لب کشائی سے احتراز چاہیئے، جبکہ مزید تفصیل کیلئے عبارات اکابر" مؤلفہ مولانا سرفراز خان صفدر "کا مطالعہ مفید رہیگا (16 /41) واللہ اعلم بالصواب