السلام علیکم!
میں ایک ایسی جگہ کام کرتا ہوں، جہاں پر کبھی سودی پیسہ کارو بار میں استعمال کیا گیا تھا (پچھلے ریکارڈز میں) نیز مصنوعی چیزوں کو اصل چیزوں کے پیکنگ میں رکھ کر بیچ کر کسٹمرز کو دھوکہ دیا جاتا ہے، اور زیادہ پیسے لیے جاتے ہیں۔ میرا یہاں اکاؤنٹ کے شعبہ میں کام کرنا حرام ہے یا حلال؟ اگر حرام ہے تو جو اب تک کمایا ، اس کا کیا ہونا چاہیئے؟
اگر اس جعلی سلسلہ میں سائل کا کوئی عمل دخل نہ ہو، اور نہ اسے گاہک کو اس سامان کے واقعی اصلی ہونے پر قائل کرنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کو مذکور ملازمت برقرار رکھنے اور اس پر ملنے والے معاوضہ کو اپنے استعمال میں لانے کی بھی گنجائش ہے ، ورنہ دھوکہ دہی کی وجہ سے اس کا یہ عمل جائز نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
ففي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان للہ تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى اھ (3/ 296)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0